واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی آئندہ انتخابات میں کھل کر حمایت کے ایک روز بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی انتخابی توثیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ وینس کے اس بیان نے امریکی قیادت کے اسرائیل سے متعلق سیاسی مؤقف اور ریپبلکن جماعت کے اندر پالیسی ترجیحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم نائب صدر نے ٹرمپ کے مؤقف کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسرائیلی انتخابات سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط وزیراعظم اور ایران کے خلاف امریکی مؤقف میں اہم اتحادی قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو اسرائیل کے لیے ایک مضبوط رہنما ثابت ہوئے ہیں اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا کے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی کامیابی کی حمایت بھی کی۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر اسرائیل میں ان کی نظر میں موزوں قیادت منتخب نہ ہوئی تو ایران کے خلاف بعض معاملات کی ذمہ داری امریکا کو خود اٹھانا پڑ سکتی ہے۔ اس طرح ٹرمپ نے نیتن یاہو کی انتخابی حمایت کو ایران سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔
یہ حمایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو انتخابات متوقع ہیں اور نیتن یاہو کو سیاسی طور پر اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بعض انتخابی جائزوں میں ان کے سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے کم دکھایا گیا ہے۔ ایسے حالات میں امریکی صدر کی کھلی حمایت نیتن یاہو کے لیے سیاسی اہمیت رکھتی ہے، اگرچہ اس کے انتخابی اثرات کا حتمی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے صحافی مارک ہالپرن نے براہ راست سوال کیا کہ آیا وہ بھی نیتن یاہو کی دوبارہ انتخابی کامیابی کی حمایت کرتے ہیں۔
وینس نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی حمایت امریکی اور بین الاقوامی سیاسی تاریخ میں انتہائی مؤثر اہمیت رکھتی ہے، تاہم ان کی اپنی توجہ امریکی امیدواروں اور آئندہ وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں اور اسرائیلی انتخابات میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ سوالات کے دوران وینس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا مؤقف نہ نیتن یاہو کی مخالفت ہے اور نہ ہی ان کی حمایت؛ وہ اس انتخابی عمل میں فریق نہیں بننا چاہتے۔
یہ بیان اس لیے قابل توجہ ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے حق میں واضح سیاسی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ ان کے نائب نے اسی معاملے پر اپنی توثیق دینے سے گریز کیا۔ تاہم دستیاب رپورٹوں میں وینس کی جانب سے ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت یا دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی نئے تنازعے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی وسط مدتی انتخابات بھی اہم وجہ
جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری جاری ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے، اس لیے ریپبلکن قیادت کے لیے امریکی ووٹرز، انتخابی مہمات اور ملکی سیاسی مسائل اہم ترجیحات ہیں۔
وینس شمالی کیرولائنا میں ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیکل واٹلی کی انتخابی مہم میں شریک تھے جب انہوں نے نیتن یاہو کی حمایت سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔
اس پس منظر میں وینس کا امریکی امیدواروں پر توجہ مرکوز رکھنے کا بیان ان کی انتخابی حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں ایک غیر معمولی انداز سے براہ راست اپنی پسند کا اظہار کیا ہے، جس سے دونوں رہنماؤں کے سیاسی کردار اور ترجیحات کے فرق پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
وینس کے موجودہ مؤقف کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ماضی میں کسی دوسرے ملک کے انتخابی عمل سے مکمل طور پر دور نہیں رہے۔
رواں سال اپریل میں انہوں نے ہنگری کا دورہ کیا تھا اور اس وقت کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی انتخابی مہم کی کھل کر حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود اوربان کی جماعت بعد میں پارلیمانی انتخابات میں شکست کھا گئی۔
اسی لیے نیتن یاہو کے معاملے میں وینس کا عدم مداخلت کا اعلان توجہ کا مرکز بنا ہے۔ تاہم ہنگری اور اسرائیل کے سیاسی حالات، انتخابی ماحول اور امریکی مفادات میں فرق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے؛ صرف ان دونوں واقعات کی بنیاد پر وینس کے مؤقف کو ٹرمپ سے اختلاف کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس معاملے کی اہمیت صرف اسرائیلی انتخابات تک محدود نہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی بھی اس سیاسی بحث کا بنیادی حصہ ہیں۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی تعاون کو نمایاں کیا ہے۔ اس کے برعکس وینس ماضی میں اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض حلقوں نے ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق امریکی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی اور مذاکرات کو متاثر کرنے والے اقدامات کیے۔
وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا کے لیے اسرائیل اہم اتحادی ہے، لیکن اسے دوسرے اتحادیوں سے لازماً زیادہ اہم قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ ان خیالات پر ریپبلکن جماعت کے بعض اسرائیل نواز حلقوں میں تحفظات سامنے آئے ہیں۔
تاہم اس پس منظر کے باوجود وینس نے تازہ بیان میں نہ نیتن یاہو پر براہ راست تنقید کی اور نہ ہی ٹرمپ کی حمایت کو چیلنج کیا۔ ان کا اعلان بنیادی طور پر انتخابی معاملات میں عدم مداخلت تک محدود رہا۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کے انتخابات نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن کے لیے اہم مرحلہ ہوں گے۔ ٹرمپ کی حمایت ان کے لیے سفارتی اور سیاسی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اسرائیلی ووٹرز کا فیصلہ ملک کے داخلی سیاسی حالات، سلامتی، ایران سے متعلق پالیسی اور حکومت کی کارکردگی سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوگا۔
دوسری جانب جے ڈی وینس کے لیے امریکی وسط مدتی انتخابات اور ریپبلکن جماعت کی سیاسی کامیابی فوری ترجیحات ہیں۔ ان کا محتاط مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی قیادت کے اندر اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر اندازِ بیان مختلف ہو سکتا ہے، اگرچہ اس وقت کسی کھلے اختلاف کا واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔


