ممبئی: بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سلمان خان کی سیکیورٹی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سلمان خان کو وائی پلس زمرے کی سرکاری سیکیورٹی حاصل ہے۔ ان کی سیکیورٹی میں تقریباً 11 سے 12 اہلکار تعینات رہتے ہیں۔ تاہم ٹایگر شیروف پر حملے کے فوری بعد سلمان خان ممبئی کے ایک نجی ایئرپورٹ پر سخت سیکیورٹی حصار میں نظر آئے ہیں، جہاں ان کے ساتھ مسلح سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔
سلمان خان کو دھمکی
رپورٹ کے مطابق، ٹائیگر شیروف پر فائرنگ کے بعد لارنس گینگ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے انیل پنڈت نامی شخص نے ایک آڈیو پیغام میں سلمان خان کو دھمکی دی تھی۔
آڈیو میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ جو لوگ ان کے گروہ کے خلاف کام کریں گے یا سلمان خان کے ساتھ کام کریں گے، انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ پیغام میں سلمان خان اور ان کے خاندان کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔
کئی اداکاروں کی ریکی کا دعویٰ
ٹائیگر شیروف پر فائرنگ کے معاملے میں گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس سے پہلے امیتابھ بچن، سلمان خان، عامر خان اور اکشے کمار کی ریکی کی تھی۔ ان اداکاروں کی سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث منصوبہ تبدیل کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کے ساتھ ایک چوتھا نوجوان بھی تھا، جو مبینہ طور پر واقعے سے ایک رات پہلے سگریٹ پینے کے بہانے ہوٹل سے نکل گیا تھا۔
اسلحہ سپلائی کے الزام میں 2 خواتین بھی گرفتار
دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے اس معاملے میں مزید چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں ہریانہ کے ضلع سونی پت کے کُنال اور سُمیت جبکہ اتر پردیش کی رادھا اور ببیتا شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق، ان چاروں پر مبینہ طور پر حملہ آوروں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس سے پہلے فائرنگ کرنے کے شبہے میں بہار کے ریتک اور ہریانہ کے ریحان اور پھول سنگھ کو کوٹا سے گرفتار کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔
تفتیش کار اسلحے کے ذرائع مبینہ سپلائی نیٹ ورک اور گرفتار افراد کے درمیان روابط کی جانچ کر رہے ہیں۔ ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
سلمان خان اور لارنس بشنوئی تنازع کی وجہ
سلمان خان اور لارنس بشنوئی کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ 1998 کا کالا ہرن شکار کا مقدمہ بتایا جاتا ہے۔ اس وقت سلمان خان راجستھان کے جودھ پور میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کر رہے تھے اور ان پر کالا ہرن شکار کرنے کا الزام لگا تھا۔
بشنوئی برادری کالا ہرن مقدس سمجھتی ہے اور جنگلی حیات کا تحفظ اس کی مذہبی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ اسی معاملے کے باعث سلمان خان کو ماضی میں بھی دھمکیاں ملنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
مارچ 2023 میں لارنس بشنوئی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں سلمان خان کے خلاف اپنے ارادوں کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد بھی اداکار کی سیکیورٹی کے حوالے سے متعدد واقعات سامنے آئے۔
گھر کے باہر فائرنگ اور بابا صدیقی کا قتل
اپریل 2024 میں ممبئی کے باندرہ علاقے میں سلمان خان کی رہائش گاہ گلیکسی اپارٹمنٹ کے باہر فائرنگ ہوئی تھی۔ اس واقعے کی ذمہ داری لارنس بشنوئی کے بھائی انمول سے منسوب کی گئی تھی۔
اکتوبر 2024 میں سلمان خان کے قریبی ساتھی اور سابق رکن اسمبلی بابا صدیقی کے قتل کے بعد بھی اداکار کی سیکیورٹی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
ان واقعات کے باعث سلمان خان کی حفاظت سے متعلق انتظامات مسلسل توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، لارنس بشنوئی کے چچازاد بھائی رمیش بشنوئی نے کہا ہے کہ سلمان خان اور بشنوئی برادری کے درمیان کوئی ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ تنازع مذہبی جذبات سے متعلق ہے۔ انہوں نے سلمان خان کو مقدس مقام مکھام جا کر معافی مانگنے کا مشورہ دیا۔
بشنوئی برادری کے بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ سلمان خان معافی مانگیں تو معاملہ ختم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب سلمان خان کے والد سلیم خان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ معافی مانگنے کا مطلب غلطی تسلیم کرنا ہوگا، جبکہ ان کے مطابق سلمان خان نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔
اس طرح یہ معاملہ قانونی تنازع کے ساتھ مذہبی جذبات اور عوامی بیانات سے بھی جڑا ہوا ہے۔


