ٹائیگر شیروف پر فائرنگ کیس میں 2 خواتین بھی گرفتار

ممبئی: بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں تفتیش کے دوران اسلحہ سپلائی کرنے والے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 18 اکتوبر 2026 کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں فٹ بال گراؤنڈ سے واپسی کے دوران ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اداکار اس واقعے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور فردوس بلوچ اور ایک دوسرے شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

پولیس کی تحقیقات میں لارنس بشنوئی گینگ کے ممکنہ تعلق کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں ممبئی پولیس نے راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن، سونی پت اور دیگر مقامات سے بھی گرفتاریاں کی ہیں۔

پولیس کی توجہ اسلحہ ممبئی پہنچانے کے طریقۂ کار اور فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر شامل افراد کے روابط کا سراغ لگانے پر ہے۔

دہلی پولیس نے ریاست اتر پردیش کی دو خواتین، رادھا اور ببیتا، کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹرین کے ذریعے پستول ممبئی پہنچائے تھے۔ اس معاملے میں ہریانہ کے ضلع سونی پت کے گاؤں روہنا کے رہائشی کنال اور سمیت کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس چاروں ملزمان سے پوچھ گچھ کرکے اسلحے کے ذرائع اور فائرنگ کے واقعے سے ان کے مبینہ تعلق کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ٹرین کے ذریعے اسلحہ پہنچانے کا الزام

پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران اسلحہ فراہم کرنے والوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں دو خواتین کی گرفتاری عمل میں آئی۔ تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ رادھا اور ببیتا نے اسلحے کی کھیپ ممبئی پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم یہ اسلحہ کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے ممبئی پہنچانے کی ہدایت کس نے دی اور فائرنگ کے منصوبے میں ہر ملزم کا مبینہ کردار کیا تھا، ان سوالات کے جوابات ابھی تحقیقات کے منتظر ہیں۔

سونی پت کے دو نوجوان بھی گرفتار

اس معاملے میں کنال اور اس کے گاؤں کے رہائشی سمیت کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس ان دونوں کے مبینہ روابط اور اسلحہ سپلائی کے نیٹ ورک میں ان کے کردار کی جانچ کر رہی ہے۔

دونوں نوجوانوں کے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس کُنال کو اپنے ساتھ لے گئی تو بتایا گیا تھا کہ اسے پوچھ گچھ کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ کنال کے سر پر چوٹ تھی، تاہم چوٹ لگنے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔

گرفتار ملزم سۃمیت کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور اسے کنال بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ پولیس اہل خانہ نے پہلے کہا کہ سُمیت سے صرف پوچھ گچھ کی جائے گی۔ بعد میں ممبئی آکر ضمانت کرانے کے لیے کہا گیا۔

اہل خانہ نے نیتن نامی ایک شخص کا ذکر بھی کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے سمیت کی کنال سے ملاقات کروائی تھی۔