سائبر حملوں میں اضافہ: اینتھروپک کے سیکیورٹی افسر کا صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ

نیویارک: دنیا بھر میں سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنی اینتھروپک کے ڈپٹی چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسر جیسن ڈی کلنٹن نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق ہیکرز سافٹ ویئر کی خامیوں، آن لائن اشتہارات اور ڈیٹا چوری جیسے طریقوں سے حملے کررہے ہیں، جس کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آئندہ تقریباً 18 ماہ تک خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

جیسن کلنٹن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں گزشتہ چار دنوں کے دوران سائبر سکیورٹی کی صورت حال میں آنے والی خرابی کا ذکر کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بہتری آنے سے پہلے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال اب صرف ای میل لکھنے یا تصاویر بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر حملوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

ہیکرز کے طریقے

جیسن کلنٹن نے اکتوبر میں سامنے آنے والے متعدد سائبر حملوں اور سکیورٹی کے مسائل کی جانب توجہ دلائی۔ رپورٹ کے مطابق، ہیکرز مقبول سافٹ ویئر اور پروگرامنگ زبان پی ایچ پی سے متعلق خامیوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آن لائن اشتہارات کے ذریعے ایسے حملوں کا خطرہ بھی موجود ہے جن میں صارف کو کسی اشتہار پر کلک کیے بغیر ہی اس کے فون یا کمپیوٹر کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

اسی دوران بڑی کمپنیوں کے نجی ڈیٹا کی چوری بھی سائبر سکیورٹی سے وابستہ اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی ٹیمیں مسلسل کام کررہی ہیں، تاہم حملوں کے بڑھتے ہوئے دائرے نے اداروں پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔

کلنٹن نے پہلے بھی خبردار کیا تھا

جیسن ڈی کلنٹن نے 21 اگست 2026 کو بھی ایکس پر سائبر سکیورٹی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں سکیورٹی کی خامیوں اور خطرات میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حملوں اور سکیورٹی مسائل کی رفتار اتنی زیادہ ہوسکتی ہے کہ اہم نظاموں میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے اداروں کو مناسب وقت بھی نہ ملے۔

ان اہم نظاموں میں بینکنگ، بجلی اور انٹرنیٹ جیسی ضروری خدمات سے وابستہ بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں کلنٹن نے کمپنیوں کے سکیورٹی ذمہ داران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطرات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔

کمپنیوں کو جیسن کا مشورہ

جیسن ڈی کلنٹن نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے رابطہ کریں اور سائبر سکیورٹی کے لیے ضروری وسائل اور مالی مدد حاصل کریں۔ تاہم، ان کے مطابق، اس مرحلے پر اضافی رقم جدید ترین مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے بنیادی سکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

اس میں سافٹ ویئر کی خامیوں کی نشاندہی، حفاظتی نظام کو بہتر بنانا اور ممکنہ سائبر حملوں سے نمٹنے کی تیاری شامل ہے۔ کلنٹن کے مطابق، ٹیکنالوجی کی صنعت کو تقریباً 18 ماہ تک مسلسل چوکس رہنے اور بنیادی حفاظتی اقدامات پر توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

ولن زیرو

کلنٹن نے مستقبل کے حوالے سے ولن زیرو کا تصور بھی پیش کیا ہے۔ اس اصطلاح کا تعلق سافٹ ویئر میں موجود سکیورٹی کی خامیوں کو ختم کرنے کے خیال سے ہے۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں مستقبل میں ایسے جدید سکیورٹی ٹولز دستیاب ہوسکتے ہیں جو کم قیمت پر بھی استعمال کیے جاسکیں گے۔

ان ٹولز کی مدد سے سافٹ ویئر بنانے والے ادارے کسی ایپلی کیشن یا پروگرام کو جاری کرنے سے پہلے اس کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کرسکیں گے۔ اس طرح ممکنہ حملوں کے راستے کم کرنے اور ڈیجیٹل نظاموں کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سستے اے آئی ٹولز سے امید

جیسن کلنٹن کے مطابق مصنوعی ذہانت میں مزید ترقی کے بعد جدید سائبر سکیورٹی کی سہولتیں چھوٹے اور کم لاگت والے ٹولز میں بھی دستیاب ہوسکتی ہیں۔ اس سے صرف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں ہی نہیں بلکہ چھوٹے سافٹ ویئر ڈویلپرز کو بھی اپنے پروگراموں کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم سکیورٹی کی تمام خامیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ اس لیے ولن زیرو کو مستقبل کے ایک تصور کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اس بات کی ضمانت کے طور پر کہ تمام سائبر خطرات ختم ہوجائیں گے۔

کلنٹن کی وارننگ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر حملوں کی رفتار بڑھنے کے امکان کے پیش نظر کمپنیوں کو فوری طور پر اپنی بنیادی ڈیجیٹل سکیورٹی مضبوط بنانی چاہیے اور مستقبل میں بہتر ٹیکنالوجی دستیاب ہونے کا انتظار کرتے ہوئے موجودہ خطرات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔