گوادر میں دہشت گردی کی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد: گوادر میں دہشت گردی کی کارروائی کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جبکہ گوادر اور گبد بارڈر کراسنگ کے علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز کے دوران مختلف جھڑپوں میں ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہوا جبکہ چند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشنز کے دوران سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور علاقے میں ریاستی رٹ بحال کردی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے گوادر اور گبد بارڈر کراسنگ کے علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے بعد کلیئرنس آپریشنز کیے۔ مختلف جھڑپوں میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔

دہشت گردوں کی کارروائیوں کے دوران ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ فوجی ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار شہید نہیں ہوا۔

خواتین کے استعمال پر تشویش

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں خاتون کو حملے کے لیے مجبور کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین کو اس نوعیت کی کارروائیوں میں استعمال کرنا ان کی حرمت کے خلاف جرم ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق، فتنہ الہندوستان بلوچ خواتین کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ مؤقف آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں پیش کیا ہے۔

بلوچستان کی ترقی روکنے کی کوشش

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے عمل کو متاثر کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

فوجی ترجمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

آئی ایس پی آر کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی جائے گی، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔