تل ابیب: اسرائیل میں عام انتخابات سے صرف تین روز قبل تل ابیب میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور حکومت سے 7 اکتوبر 2023 کے سکیورٹی واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کا مرکزی اجتماع تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر میں ہوا، جہاں مظاہرین نے نیتن یاہو حکومت سے سکیورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے اہل خانہ، سابق یرغمالیوں اور حکومت مخالف حلقوں کے افراد بھی شریک ہوئے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے قبل اور اس دوران ہونے والی سکیورٹی ناکامیوں کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
احتجاج میں اسرائیلی اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جن میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ بھی شامل تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے نیتن یاہو کی حکومت کو جواب دہ بنانے اور سیاسی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو پارلیمانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابات کو نیتن یاہو کی طویل سیاسی حکمرانی اور ان کی حکومت کی پالیسیوں پر عوامی فیصلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ جائزوں میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت ملنے کے امکانات نظر نہیں آ رہے، جس کے باعث انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی بھی مشکل ہوسکتی ہے۔
مظاہرے کے منتظمین نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کریں اور ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کریں۔ دوسری جانب نیتن یاہو حکومت آزاد تحقیقاتی کمیشن کے مطالبے کی مخالفت کرتی رہی ہے اور سیاسی سطح پر تشکیل دیے جانے والے تحقیقاتی طریقہ کار کی حمایت کرتی ہے، جسے اپوزیشن مسترد کرتی ہے۔


