مکہ مکرمہ: مسلم ورلڈ لیگ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور اسلامی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مکہ مکرمہ میں قائم مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدس مقامات کی جانب حملے یا انہیں خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم نے کہا کہ ایسے اقدامات دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو خوف زدہ کرنے کے مترادف ہیں اور انسانی اقدار کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔
مسلم ورلڈ لیگ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو اپنی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے، اور لیگ اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ حملوں کے دوران سعودی حکام نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو راستے میں روکا گیا، جبکہ مکہ، مدینہ، جدہ، طائف اور رابغ کے علاقوں میں ملبہ گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں میں سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی مقامات تھے۔
حالیہ کشیدگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات کی جانب آنے والے زائرین بھی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث بعض فضائی آپریشنز اور سفری منصوبوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
مسلم ورلڈ لیگ اس سے قبل بھی سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی مذمت کرتی رہی ہے۔ تنظیم نے مقدس مقامات کے احترام اور شہریوں کے تحفظ کو بنیادی مذہبی اور انسانی اصول قرار دیا ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی نے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ زائرین، شہری تنصیبات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر سعودی حکام نے اپنے دفاعی اقدامات مزید سخت کیے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی مقدس مقامات کے تحفظ اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے پر زور دیا جا رہا ہے۔


