اے آئی بن گیا سائبر حملوں کا نیا ہتھیار، آسٹریلیا نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

سڈنی: مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی راہیں کھولی ہیں، وہیں اس کا غلط استعمال عالمی سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک غیر معمولی خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حکومتیں اور جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کی مدد سے کمپیوٹر نیٹ ورکس اور اہم تنصیبات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نشانہ بنا رہے ہیں۔

آسٹریلین سگنلز ڈائریکٹوریٹ کی سالانہ سائبر تھریٹ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سائبر خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اے آئی اس پورے منظرنامے میں ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز حملہ آوروں کو کمپیوٹر سسٹمز میں موجود کمزوریاں پہلے سے زیادہ تیزی سے تلاش کرنے اور انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سائبر حملوں کی رفتار، تعداد اور پیچیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

آسٹریلوی ادارے نے گزشتہ ایک سال کے دوران ممکنہ طور پر نقصان دہ سائبر سرگرمیوں سے متعلق 4 ہزار 400 سے زائد الرٹس جاری کیے، جو اس سے پچھلے 12 ماہ کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریاستی سرپرستی میں ہونے والے سائبر حملوں میں آسٹریلوی اداروں کو حساس یا غیر عوامی معلومات تک رسائی کے لیے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا دائرہ صرف سرکاری نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہا بلکہ اہم انفرااسٹرکچر، نجی کاروباری اداروں اور عام افراد کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔

آسٹریلیا کے مطابق حالیہ عرصے میں چین، روس اور شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپس نے آسٹریلیا یا اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں کو اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اس کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نقصان دہ عناصر پہلے ہی اے آئی کو سسٹمز کی کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے شہریوں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے کمپیوٹرز کو اپ ڈیٹ رکھیں اور اپنے سسٹمز کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنائیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ حالیہ ہفتوں میں اے آئی ایجنٹس کے غیر متوقع اقدامات اور ماڈلز کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والے نئے خطرات نے سائبر سیکیورٹی کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

عالمی سطح پر بھی جدید اے آئی ماڈلز کی سائبر حملوں میں ممکنہ صلاحیت پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حالیہ سائبر واقعات کے بعد ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سے استفادے کے ساتھ اس کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔