بنگلا دیش بھی بھارتی آبی دہشتگردی کاشکار:کروڑوں انسانوں کا مستقبل داؤ پر

راجشاہی: بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کا اہم معاہدہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے، لیکن اس کی تجدید کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال نے بنگلا دیش میں تشویش بڑھا دی ہے۔ بنگلا دیش کو خدشہ ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ بروقت نیا معاہدہ طے نہ پایا تو پہلے سے پانی کی قلت کا شکار علاقوں میں خشک سالی شدت اختیار کرسکتی ہے، جس سے لاکھوں کسانوں، ماہی گیروں اور دیہی آبادیوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہوں گے۔

سال 1996 میں طے پانے والا 30 سالہ گنگا آبی معاہدہ 12 دسمبر 2026 کو اپنی مدت پوری کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں قائم فرخہ بیراج کے مقام پر خشک موسم کے دوران پانی کی تقسیم کا طریقہ کار طے کرتا ہے۔ بنگلا دیش کا مؤقف ہے کہ نئے معاہدے میں پانی کی فراہمی کی واضح ضمانتیں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور پورے دریائی نظام کی ضروریات کو شامل کرنا ضروری ہے۔

بھارت پر سوال

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلا دیش نے بھارت سے معاہدے کی تجدید کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم اسے اس حوالے سے بھارت کی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور پانی کی تقسیم سے متعلق امور مشترکہ دریائی کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے فروری 2026 میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ گنگا آبی معاہدے کی تجدید کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے۔ یہ صورت حال اس لیے اہم ہے کہ معاہدے کی مقررہ مدت ختم ہونے میں اب چند ہفتے باقی ہیں اور کسی نئے انتظام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں پانی کی تقسیم کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی برقرار رہ سکتی ہے۔

بھارت بالائی حصے میں واقع ہونے کے باعث گنگا کے بہاؤ پر اہم جغرافیائی اور آبی اثر رکھتا ہے، جبکہ بنگلا دیش زیریں حصے میں ہونے کی وجہ سے پانی کی دستیابی اور بہاؤ میں تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے پانی کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی تعاون، ماحولیات اور انسانی ضروریات سے بھی جڑا ہوا ہے۔

پانی کی تقسیم کا تنازع

بھارت نے 1975 میں فرخہ بیراج کھولا تھا، جس کے بعد گنگا کے پانی کی تقسیم پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے۔ بنگلا دیش طویل عرصے سے یہ خدشہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ خشک موسم میں پانی کے بہاؤ میں کمی سے اس کے جنوبی اور شمال مغربی علاقوں میں زراعت، دریائی ماحول اور میٹھے پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

اس تنازع کے حل کے لیے 1977 میں بھی ایک معاہدہ کیا گیا تھا، جس میں پانی کی کم از کم فراہمی سے متعلق ضمانتی شق شامل تھی۔ تاہم 1996 کے معاہدے میں اس نوعیت کی ضمانت برقرار نہیں رکھی گئی۔

بنگلا دیش کے موجودہ آبی حکام چاہتے ہیں کہ نئے معاہدے میں ضمانتی شق دوبارہ شامل کی جائے تاکہ خشک موسم میں پانی کی فراہمی زیادہ قابلِ پیش گوئی اور قابلِ اعتماد ہو۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان دریائے تیستا سمیت دیگر مشترکہ دریاؤں پر پانی کی تقسیم کے معاملات بھی طویل عرصے سے حل طلب ہیں۔ تیستا معاہدہ 2011 سے تعطل کا شکار ہے، جس سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان آبی تعاون کی مشکلات مزید نمایاں ہوتی ہیں۔

کسان اور ماہی گیر پریشان

بنگلا دیش کے شمال مغربی علاقے بارِند میں پانی کی کمی کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق سال کے بعض مہینوں میں دریا کا بہاؤ اس قدر کم ہوجاتا ہے کہ معمول کی ماہی گیری اور زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔

مذہبی لوگوں کے مطابق ماضی میں گنگا میں سال بھر بڑی کشتیاں چلتی تھیں، لیکن اب تقریباً تین ماہ تک دریا میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ فصل کے موسم میں پانی کی کمی کے باعث دھان اور گندم کی فصلیں تباہ ہوئیں اور دو کسانوں نے خودکشی کرلی۔

دریا میں پانی کم ہونے سے مچھلیوں کی دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔ بعض ماہی گیروں کو روایتی ماہی گیری چھوڑ کر تالابوں میں مچھلیاں پالنے کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ خوراک، آمدنی اور دیہی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

بنگلا دیش کے دریائے گنگا سے منسلک آب پاشی کے سب سے بڑے منصوبوں میں شامل گنگا کوباڈک منصوبہ ماضی میں تقریباً 955 مربع کلومیٹر زرعی زمین کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم پانی کی قلت کے باعث اس منصوبے سے مستفید ہونے والا رقبہ کم ہوکر تقریباً 550 مربع کلومیٹر رہ جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے بنگلا دیش نے مئی 2026 میں تقریباً 2.8 ارب ڈالر کے پدما بیراج منصوبے کی منظوری بھی دی، جس میں 113 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے منصوبے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پانی کی دستیابی بہتر بنانا اور آبی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑے تعمیراتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سرحد پار دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان قابلِ عمل اور طویل مدتی معاہدہ بھی ناگزیر ہے۔

موسمیاتی تبدیلی

بنگلا دیش کی معیشت بڑی حد تک زراعت پر انحصار کرتی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کبھی خشک سالی اور کبھی شدید مون سون سیلاب فصلوں، دیہات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

خشک موسم میں پانی کی قلت اور بارشوں کے دوران تباہ کن سیلاب ایک ہی خطے کے لیے دو متضاد مگر سنگین مسائل بن چکے ہیں۔

دریائے گنگا کا بہاؤ کم ہونے سے سندربن کے ماحولیاتی نظام پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ دریائے گورائی کے ذریعے سندربن تک پہنچنے والا میٹھا پانی سمندری کھارے پانی کی پیش قدمی کو محدود رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اگر میٹھے پانی کی فراہمی مزید کم ہوئی تو سطح سمندر میں اضافے کے تناظر میں اس حساس مینگروو جنگل اور اس سے وابستہ حیاتیاتی تنوع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے میں صرف پانی کی مقررہ مقدار طے کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ موسمیاتی تبدیلی، بدلتے ہوئے دریائی بہاؤ، آب پاشی، ماحولیاتی تحفظ اور مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

بھارت بنگلا دیش تعلقات کا امتحان

دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع ایسے وقت میں دوبارہ اہمیت اختیار کر رہا ہے جب 2024 کی سیاسی تبدیلیوں کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہوا ہے۔ بنگلا دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت میں مقیم ہیں، جبکہ ان کے خلاف غیر حاضری میں سنائی گئی سزائے موت نے بھی دونوں ملکوں کے سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے۔

تاہم گنگا کے پانی کا مسئلہ سیاسی اختلافات سے کہیں وسیع ہے، کیونکہ اس سے سرحد کے دونوں جانب آباد لوگوں کی روزمرہ زندگی، زراعت، خوراک اور ماحولیاتی تحفظ وابستہ ہیں۔