ٹرمپ کا الاسکا میں انتخابی دھاندلی کا الزام، ایک ہی نام کے دو امیدواروں کا تنازع بڑھ گیا

امریکی صدر نے ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا، ری پبلکن سینیٹر کے ہم نام امیدوار کو ووٹ تقسیم کرنے کی مبینہ کوشش کا مرکز قرار دیا گیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست الاسکا میں سینیٹ کے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی پر انتخابی دھاندلی کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتے ہوئے امیدوار میری پیلٹولا اور ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کے ہم نام ایک دوسرے امیدوار کو انتخابی بیلٹ سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈیموکریٹک امیدوار کی انتخابی مہم سے وابستہ بعض افراد نے ری پبلکن سینیٹر کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے ان کے ہم نام امیدواروں کو میدان میں لانے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹس نے دانستہ طور پر ڈین سلیوان نامی شخص کو انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش کی تاکہ ووٹرز میں الجھن پیدا ہو اور موجودہ ری پبلکن سینیٹر کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے اس معاملے کو انتخابی دھاندلی قرار دیتے ہوئے میری پیلٹولا اور مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

امریکی صدر نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں وفاقی عدالت میں حلف کے تحت غلط بیانات بھی دیے گئے، تاہم دستیاب رپورٹنگ میں ان الزامات کی عدالتی طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

ایک نام، دو امیدوار

الاسکا میں ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں، جبکہ ڈین جے سلیوان نامی ایک ریٹائرڈ استاد بھی سینیٹ کے انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔ دونوں کے ناموں میں مماثلت کے باعث ووٹرز میں ممکنہ الجھن اور ووٹوں کی تقسیم کا معاملہ سیاسی تنازع بن گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک انتخابی مہم سے وابستہ بعض افراد نے ایسے امیدواروں کو تلاش کرنے پر غور کیا جن کے نام ری پبلکن امیدوار سے ملتے ہوں۔ رپورٹ میں ٹیکسٹ پیغامات اور دیگر دستاویزات کا حوالہ بھی دیا گیا۔

تاہم ڈین جے سلیوان نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے کہنے پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی مرضی سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ دوسری جانب میری پیلٹولا کی انتخابی مہم اور ڈیموکریٹک سینیٹریل کیمپین کمیٹی نے امیدواروں کو بھرتی کرنے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

یہ معاملہ امریکی انتخابی قوانین اور امیدواروں کے انتخاب لڑنے کے حق سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔ الاسکا کی سپریم کورٹ جون 2026 میں پہلے ہی ڈین جے سلیوان کو بیلٹ پر برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔

امریکی انتخابات میں مخالف امیدوار کے ووٹ تقسیم کرنے کی غرض سے کسی ہم نام امیدوار کی حمایت یا انتخابی حکمت عملی اپنانے کو بعض اوقات اسپوائلر سیاست کہا جاتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایسی حکمت عملی لازماً غیر قانونی نہیں ہوتی، جبکہ اس مخصوص معاملے میں کسی مجرمانہ جرم کا حتمی تعین نہیں ہوا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل وفاقی عدالت سے بھی رجوع کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوتی ہیں تو انتخابی نتائج کی حتمی توثیق روکی جائے، اگر ہم نام امیدوار کی موجودگی سے نتائج متاثر ہونے کا امکان ہو۔

سینیٹ انتخابات کی اہمیت

الاسکا میں سینیٹ کی یہ نشست اس لیے بھی اہم ہے کہ 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس کے ایوانوں میں طاقت کا توازن متاثر ہوسکتا ہے۔ سینیٹ میں اکثریت کا حصول دونوں بڑی جماعتوں کے لیے اہم ہے، اسی لیے انتخابی مہم میں امیدواروں، ووٹوں کی تقسیم اور انتخابی قوانین سے متعلق تنازعات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

اس معاملے میں ٹرمپ کی مداخلت نے انتخابی تنازع کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تاہم الزامات، سیاسی بیانات اور تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے دعووں کو حتمی عدالتی فیصلے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ فی الحال اس تنازع کا فیصلہ انتخابی عمل، قانونی کارروائی اور متعلقہ حکام کی تحقیقات کے ذریعے ہی واضح ہوسکے گا۔