ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ تمنا بھاٹیہ نے سینئر اداکار انو کپور کی جانب سے ان کے بارے میں کیے گئے متنازع تبصرے پر پہلی بار اپنا ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی اداکاری اور تخلیقی کام پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال بالی ووڈ کے سینئر اداکار انو کپور نے ایک انٹرویو میں فلم ’استری 2‘ کے مقبول گانے ’آج کی رات‘ اور اس میں تمنا بھاٹیہ کی پرفارمنس پر گفتگو کی تھی۔
انو کپور نے اداکارہ کے لیے ’دودھیا بدن‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ ان کے تبصرے پر تنقید انو کپور نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں لیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یہی بات انگریزی میں کہی جائے تو شاید اس پر اتنا اعتراض نہ کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تمنا بھاٹیہ ان کی بیٹی کی عمر کی ہیں اور ان کے دل میں اداکارہ کے لیے کوئی غلط جذبہ نہیں تھا۔ اگر تمنا کو ان کی بات بری لگی ہو تو وہ ان سے معذرت کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم وہ اپنے بیان کے پیچھے موجود نیت کو درست سمجھتے ہیں۔
ایک برس سے زائد وقت گزرنے کےبعد بھارتی نشریاتی ادارےاین ڈی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران تمنا بھاٹیہ سے ان کی رنگت اور جسمانی خدوخال کے حوالے سے ہونے والے تبصروں کے بارے میں سوال کیا گیا۔
تمنا بھاٹیہ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتی ہیں کہ شائقین انہیں صرف ان کی اسکرین پر موجودگی اور بولڈ امیج کے بجائے ایک سنجیدہ اداکارہ کے طور پر بھی دیکھیں، جبکہ ان کی حالیہ فلموں کو بھی اسی تناظر میں زیرِ بحث لایا گیا۔
اس پر تمنا بھاٹیہ نے کہا کہ کسی بھی تخلیقی شعبے سے وابستہ شخص کے لیے دوسروں کی بات سننا ضروری ہے، تاہم یہ سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کون سی بات قابلِ توجہ ہے اور کس چیز کو نظرانداز کردینا چاہیے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ دوسروں کے ایسے تبصروں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگیں تو شاید اپنی زندگی اور کام میں آگے بڑھنا مشکل ہوجائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی توجہ ان باتوں کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ سفر اور اس کام پر رہتی ہے جسے وہ تخلیق کرنا چاہتی ہیں۔
تمنا کے مطابق وہ اپنے کام کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دینا چاہتی ہیں۔ جب کام خلوص اور درست نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ لوگوں تک بھی پہنچتا ہے۔
تمنا بھاٹیہ نے انو کپور کا نام لے کر براہِ راست جواب دینے کے بجائے عمومی طور پر ایسے تبصروں کو نظرانداز کرنے اور اپنے کام پر توجہ رکھنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو دوسروں کی رائے کے بجائے اپنی اداکاری اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔


