پیرس: دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو سائبر حملے میں 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں سے محروم کر دیا گیا۔ حملے میں شمالی کوریا کے ہیکرز کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ چوری شدہ رقم کا تقریباً نصف حصہ منجمد کیے جانے کے باوجود سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
تصور کریں کہ کسی بڑے بینک کی تجوری سے چند ہی منٹوں میں اربوں ڈالر کی رقم نکل جائے اور کسی کو فوری طور پر معلوم بھی نہ ہو کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کچھ ایسا ہی غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ڈیجیٹل اثاثوں کے معروف عالمی پلیٹ فارم بائننس کو تاریخ کے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فرانس 24 کے مطابق ہیکرز نے بائننس کے لین دین کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل والیٹس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی نکال لی۔ اس واردات نے نہ صرف دنیا بھر کے کرپٹو سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا بلکہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی سیکیورٹی پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حیران کن پہلو یہ ہے کہ حملے کا بڑا حصہ تقریباً 20 منٹ میں مکمل ہوا، جبکہ بلاک چین ریکارڈ کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کی رات تقریباً 8 بجے جی ایم ٹی کے بعد شروع ہوئی
ہیکرز نے بائننس کے سیکیورٹی نظام میں کیسے نقب لگائی؟
ابتدائی طور پر بائننس کو شبہ تھا کہ حملہ ایک ایسے لیپ ٹاپ کے ذریعے کیا گیا جس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی گئی تھی، تاہم بعد کی تحقیقات میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی کے مزید مقامات سامنے آئے۔
امریکی بلاک چین تجزیاتی ادارے ٹی آر ایم لیبز کے مطابق حملہ آوروں نے بائننس کے اس نظام کو نشانہ بنایا جو ڈیجیٹل لین دین کی منظوری اور دستخط کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس نظام پر کنٹرول حاصل ہونے کے بعد ہیکرز متاثرہ والیٹس سے رقوم منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
آسان الفاظ میں سمجھیں تو یہ معاملہ محض کسی ڈیجیٹل تجوری کی چابی چرانے کا نہیں تھا بلکہ اس نظام تک رسائی حاصل کرنے کا تھا جو تجوری کو رقم باہر منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس واقعے نے کرپٹو دنیا میں سائبر سیکیورٹی کے موجودہ انتظامات پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے
بائننس صارفین کی رقم واپس کرسکے گا؟
اس بڑے نقصان کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ صارفین کے ڈیجیٹل اثاثوں کا تحفظ کیسے کیا جائے گا اور کیا چوری ہونے والی رقم واپس مل سکتی ہے؟
بائننس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صارفین کے نقصان کا ازالہ کمپنی کے وسائل اور اس کے مخصوص سیکیورٹی فنڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔
بائننس کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کے پاس صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فنڈ موجود ہے، جس میں ایک ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائنز رکھے گئے ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد کسی بڑے سیکیورٹی واقعے کی صورت میں صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
تاہم 6.3 ارب ڈالر کے ممکنہ نقصان کے مقابلے میں اس فنڈ کی موجودگی بھی اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
رقم واپسی کی ضمانت نہیں
اس واردات میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ مختلف کرپٹو کمپنیوں اور اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں نے منجمد کر دیا۔
ان اداروں میں ٹیتر، سرکل ، ریپل اور ٹرمپ خاندان سے وابستہ کرپٹو منصوبہ ورلڈ لبرٹی فنانشل شامل ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر کرپٹو کرنسی کو منجمد کرنے کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اسٹیبل کوائنز کے بعض اجرا کنندگان اپنے نظام کے ذریعے مخصوص ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی روک سکتے ہیں، لیکن بٹ کوائن اور ایتھر جیسے اثاثوں پر کسی ایک کمپنی کا ایسا براہ راست اختیار نہیں ہوتا۔
ٹی آر ایم لیبز کے اندازے کے مطابق تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اور ایتھر ایسے اثاثوں میں شامل ہیں جن تک حملہ آوروں کی رسائی محدود یا ناممکن ہو چکی ہے۔
تاہم رقم منجمد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود بخود بائننس یا اصل مالکان کو واپس مل جائے گی۔ اس کے لیے مزید قانونی اور تکنیکی کارروائی درکار ہوگی۔
شمالی کوریا کے ہیکرز پر شبہ کیوں؟
اس سائبر حملے کے پیچھے کون ہے، یہ سوال ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا، لیکن امریکی بلاک چین تجزیاتی اداروں نے اس کارروائی کے انداز کو شمالی کوریا سے منسوب کیے جانے والے سابقہ سائبر حملوں سے ملتا جلتا قرار دیا ہے۔
ٹی آر ایم لیبز کے مطابق بائننس پر ہونے والے حملے میں ایسی خصوصیات پائی گئی ہیں جو گزشتہ برس کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ (Bybit) پر ہونے والے حملے میں بھی سامنے آئی تھیں۔ اس واقعے کا الزام امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکرز پر عائد کیا تھا۔
ادارے نے بائننس حملے میں بھی اسی گروپ کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب بائننس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت حتمی طور پر نہیں ہوسکی۔ شمالی کوریا بھی ماضی میں سائبر حملوں اور کرپٹو کرنسی چوری میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
اربوں ڈالر کی کرپٹو رقم آخر جائے گی کہاں؟
ڈیجیٹل کرنسی چوری کرنے کے بعد ہیکرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسے قابل استعمال رقم میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ بلاک چین پر ہونے والی لین دین کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، جبکہ مختلف کرپٹو پلیٹ فارمز مشتبہ اثاثوں کی نشاندہی کے بعد ان کی منتقلی روک سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حملہ آور چوری شدہ اثاثوں کو دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کے ساتھ ملانے یا نسبتاً کم معروف پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ایسے اثاثوں کی شناخت اور نگرانی مزید سخت ہو جاتی ہے، جس سے انہیں مالیاتی نظام میں دوبارہ استعمال کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
بلاک چین انٹیلی جنس کمپنی ٹریس فنانس کے سربراہ برنارڈو برائٹس کے مطابق ابتدائی چند گھنٹے ایسے واقعات میں انتہائی اہم ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد مختلف مالیاتی اداروں اور پلیٹ فارمز کو مشتبہ رقوم کی اطلاع مل جاتی ہے۔
کرپٹو مارکیٹ پر کیا اثر پڑا؟
بائننس پر ہونے والا یہ حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈیجیٹل کرنسیوں کی عالمی مارکیٹ پہلے ہی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد جمعے کو مختلف کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ اسٹیبل کوائنز کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی۔ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بعض سرمایہ کاروں نے ڈیجیٹل اثاثوں سے اپنی سرمایہ کاری نکالنا شروع کردی ہے۔
ٹی آر ایم لیبز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 150 مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 2.9 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی۔ بائننس کے حالیہ واقعے نے ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کرپٹو کرنسی کا مستقبل خطرے میں ؟
بائننس کا واقعہ محض ایک کمپنی کو پہنچنے والا مالی نقصان نہیں بلکہ پوری کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اس سے یہ سوال دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے موجودہ سیکیورٹی نظام کس حد تک قابل اعتماد ہیں۔
اگرچہ بلاک چین ٹیکنالوجی کو شفاف اور جدید مالیاتی نظام کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ منسلک پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل والیٹس اور لین دین کی منظوری دینے والے نظام بھی سائبر حملوں کی زد میں آسکتے ہیں۔
اب بائننس کے لیے اصل چیلنج صرف مالی نقصان پورا کرنا نہیں بلکہ صارفین کا اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتائج، چوری شدہ رقم کی بازیابی اور کمپنی کے سیکیورٹی اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ اس واقعے کے اثرات کرپٹو مارکیٹ پر کتنے گہرے ثابت ہوتے ہیں۔


