مولانا فضل الرحمان سے اسمبلی میں ملاقات ہوئی تو لگا مجھ میں ابھی دم خم ہے : خواجہ آصف

سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ سیاست میں آئے36سال ہوگئے۔ جب مولانا فضل الرحمان سے اسمبلی میں ملاقات ہوئی تو لگا کہ مجھ میں ابھی دم خم موجود ہے۔

سیالکوٹ میں نجی کالج کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے تعلیمی اور سیاسی سفر کے کئی اہم واقعات بیان کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم، ہنر اور صلاحیتیں ہی پاکستان کی ترقی کی اصل بنیاد ہیں، جبکہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران جیل میں گزارے گئے وقت اور مشکلات کا بھی تذکرہ کیا۔

سیالکوٹ میں ایک نجی کالج کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ عملی مہارتیں حاصل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ ملک کا مستقبل تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی تقدیر بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے اپنے تعلیمی دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تعلیمی تقریبات میں شرکت کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں بی اے اور قانون کی ڈگری ڈاک کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔ ان کے بقول اس وقت ملک میں ایوب خان کے خلاف سیاسی تحریک جاری تھی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حالات نے بھی اس دور کو غیر معمولی بنا دیا تھا۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے 1991 میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور گزشتہ 36 برس سے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل سیاسی سفر کے دوران بعض اوقات انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان سے اسمبلی میں ہونے والی ایک ملاقات نے انہیں احساس دلایا کہ ابھی ان میں کام کرنے کا حوصلہ اور توانائی موجود ہے۔

اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ادوار کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ انہیں مختلف سیاسی ادوار میں کئی مرتبہ قید و بند کی مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے اٹک جیل اور قلعے میں گزارے گئے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اٹک قلعہ ایک خوفناک جگہ ہے جہاں انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا تھا۔

وزیر دفاع کے مطابق پرویز مشرف کے دور میں بھی انہیں تقریباً سوا ماہ جیل میں گزارنا پڑا، جبکہ 2020 میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی وہ کئی ماہ زیر حراست رہے۔

انہوں نے نیب کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں قید میں رکھنے والے نیب کے نمائندے بھی انہیں ان کے خلاف جرم واضح طور پر نہیں بتا سکے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانا ملک کے مفاد میں نہیں اور انتقامی سیاست سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

تقریب سے خطاب میں خواجہ آصف نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور بھارت کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی کامیابی کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے سراہا اور پاکستانی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور پاکستانی جوانوں کی جانب سے بھارتی طیارے گرائے جانے کے واقعات کی عالمی سطح پر بھی گواہی دی گئی۔

ان کے مطابق معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام دلایا ہے اور دنیا میں ملک کی دفاعی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔