امریکا ایران ممکنہ معاہدے کا نیا فارمولہ تیار؟ چین کا اہم کردار

دوحا: ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکی پابندیوں میں نرمی کے لیے مجوزہ مذاکراتی فریم ورک سامنے آگیا۔ العربیہ کے مطابق ابتدائی مسودے میں دونوں ممالک کی جانب سے مرحلہ وار اور بیک وقت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پاکستان اور قطر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔

العربیہ اردو کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سعودی نشریاتی ادارے العربیہ کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے مجوزہ فریم ورک کا ابتدائی مسودہ موصول ہوا ہے۔

اس مجوزہ منصوبے میں صرف جنگ بندی یا عارضی مفاہمت ہی نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام، عالمی تیل کی ترسیل کے اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز، امریکی پابندیوں اور دونوں ممالک کے باہمی وعدوں کی نگرانی کے لیے ایک جامع نظام وضع کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

مسودے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران میں سے کسی ایک ملک کو بھی دوسرے کی جانب سے قابلِ تصدیق یقین دہانیوں کے بغیر یکطرفہ رعایتیں نہ دینا پڑیں۔ یعنی دونوں ممالک اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے کے اقدامات کے ساتھ منسلک رکھتے ہوئے مرحلہ وار آگے بڑھیں گے۔

ایران کے افزودہ یورینیم پر کیا فارمولا زیر غور ہے؟

مجوزہ مذاکراتی فریم ورک کا سب سے حساس معاملہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے۔ مسودے میں ایران کی جانب سے اس مواد کے مستقبل کے حوالے سے ابتدائی عہد کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے تحت ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو کسی ایسے تیسرے ملک منتقل کرنے پر غور کرسکتا ہے جس پر دونوں فریق متفق ہوں، یا اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

تاہم یہ اقدامات کسی فوری یا یکطرفہ فیصلے کے بجائے تکنیکی انتظامات، باہمی اتفاق اور آزادانہ تصدیقی نظام سے مشروط ہوں گے۔

اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کم کرنا اور امریکا کو اس بات کی یقین دہانی فراہم کرنا ہے کہ طے شدہ شرائط پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 7 روزہ کا پلان

مذاکراتی مسودے کا دوسرا انتہائی اہم پہلو آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق ہے۔

یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کشیدگی یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق ابتدائی مفاہمت طے پانے کے سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق انتظامات پر بات چیت شروع کی جائے گی۔ اس دوران دونوں ممالک روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے تاکہ کشیدگی کم ہو اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جاسکے۔

مسودے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بحری سلامتی کے معاملے کو جوہری مذاکرات سے الگ تھلگ نہیں رکھا جائے گا بلکہ دونوں شعبوں میں پیش رفت ایک دوسرے سے منسلک ہوگی۔

چین کا ممکنہ کردار

مجوزہ فریم ورک میں چین کو بھی ایک اہم ممکنہ کردار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مسودے کے مطابق چین کسی حتمی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور اس کے دیرپا رہنے کی ضمانت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مذاکرات کے ممکنہ مقام کے طور پر استنبول کے بجائے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے ترکیہ میں مذاکرات کے انعقاد پر سیکیورٹی خدشات ظاہر کیے جانے کے بعد دوحہ کو متبادل مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا حتمی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح اور سیکیورٹی انتظامات پر اتفاق سے مشروط ہوگا۔

امریکا اور ایران بیک وقت رعایتیں

اس مجوزہ منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے اقدامات کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام اور بحری سلامتی سے متعلق ہر قابلِ تصدیق اقدام کے جواب میں امریکا پابندیوں، ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے لیے مخصوص اقدامات کرے گا۔

اس پورے عمل کی نگرانی ایک آزاد تصدیقی نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کسی بھی فریق کو دوسرے کی جانب سے عملی پیش رفت کے بغیر بڑی رعایت نہ دینا پڑے۔

مسودے میں تاخیر، وعدوں سے انحراف یا شرائط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں تنازعات حل کرنے کا طریقۂ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مذاکراتی عمل کو کسی اختلاف یا خلاف ورزی کے باعث دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے روکنا ہے۔

پاکستان کی ثالثی

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں پر محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 30 اکتوبر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں مثبت پہلو موجود ہیں، تاہم ابھی بہت کچھ طے ہونا باقی ہے۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے دو دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جاتے اگر وہاں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی؟ تو ہاں، یقیناً کچھ مثبت پہلو موجود ہیں۔

احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان اس پورے معاملے کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی بعض طاقتور حلقے ایسے ہیں جو اس تنازع کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں اور امن کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کرسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

مذاکرات کی بحالی کی کوشش

پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ قطر نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جمعہ کو قطری وفد تہران پہنچا، جس کی قیادت قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ایک سینئر مشیر کر رہے تھے۔

وفد کا مقصد ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرنا اور دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس دورے کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ان اطلاعات کے ایک روز بعد سامنے آئی کہ تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے نام ایک پیغام موصول ہوا ہے۔

دوسری جانب ایران کے خلاف ممکنہ نئے امریکی فوجی آپشنز سے متعلق اطلاعات نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کیا امن معاہدہ ممکن ہو سکے گا؟

پاکستان اور قطر اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کر رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی پائیدار معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔

موجودہ مجوزہ فریم ورک میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور عالمی نگرانی جیسے معاملات کو ایک ہی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اگر دونوں ممالک اس فارمولے پر متفق ہوجاتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔

تاہم فی الحال یہ ایک ابتدائی مسودہ ہے، کسی طے شدہ معاہدے یا باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے وعدوں پر اعتماد کرنے اور عملی اقدامات کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہوتے ہیں۔