قطر میں امریکا ایران کے مذاکرات کی تیاریاں

دوحا: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیاریاں جاری ہیں، جبکہ قطری ثالثی کے نتیجے میں ایرانی مذاکرات کاروں کی بھی دوحہ آمد متوقع ہے۔

اےایف پی اور رائٹرز کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ 12 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات کیے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی رابطوں کو دوبارہ بحال کرنا اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری ثالث ان مذاکرات کے دوران وائٹ ہاؤس سے بھی مسلسل رابطے میں رہے۔ سفارتی ذرائع نے بات چیت میں مثبت پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہونے یا کسی حتمی معاہدے پر اتفاق کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

مجوزہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کے ذخیرے، امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی جیسے اہم معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کی جائے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی دی جائے۔ اس کے برعکس ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کرے اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی لائے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ سفارتی فریم ورک میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی بحری تجارت کے لیے کھولنے، پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم ان تجاویز پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی یہ کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، مصر، عراق اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک بھی فریقین پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔