دوحا: چاند اب صرف خلائی تحقیق اور انسانی قدموں کی منزل نہیں رہا بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئی سائنسی اور تزویراتی مسابقت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ امریکا، روس اور چین چاند پر ایٹمی ری ایکٹر نصب کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کا مقصد مستقبل میں وہاں مستقل انسانی اڈے قائم کرنا، برف سے پانی حاصل کرنا اور خلائی تحقیق کے لیے درکار توانائی فراہم کرنا ہے۔
امریکا نے 2030 تک چاند پر اپنا نیوکلیئر ری ایکٹر پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ روس چین کے تعاون سے 2036 تک ایسا ہی منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اس خلائی مقابلے کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ اگر چاند پر نصب ایٹمی نظام میں کوئی حادثہ پیش آگیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ چاند پر ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پہلے تابکاری کے ممکنہ خطرات، حفاظتی انتظامات اور بین الاقوامی قوانین پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
چاند پر کون ایٹمی ری ایکٹر بنارہا ہے؟
امریکی خلائی ادارے ناسا نے جنوری 2026 میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی محکمہ توانائی کے تعاون سے چاند کی سطح کے لیے ایک چھوٹا ایٹمی ری ایکٹر تیار کرے گا، جسے 2030 کے اختتام تک وہاں پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
اس منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے ری ایکٹر کو لیونرری ایکٹر1کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 20 کلوواٹ ہوگی اور اسے تقریباً پانچ سال تک بغیر مرمت کے مسلسل کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
اس ری ایکٹر کا وزن 6 ہزار کلوگرام سے کم رکھنے کا منصوبہ ہے تاکہ اسے مخصوص خلائی راکٹ کے ذریعے چاند تک پہنچایا جاسکے۔
دوسری جانب روس بھی چین کے ساتھ مل کر اپنا ایٹمی ری ایکٹر تیار کر رہا ہے، جسے سیلینا (Selena) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت تقریباً 10 کلوواٹ ہوگی اور اسے دس سال تک بغیر باقاعدہ مرمت کے کام کرنے کے قابل بنانے کا ہدف ہے۔
روسی منصوبے کے مطابق اس ری ایکٹر کا وزن تقریباً 1100 سے 1300 کلوگرام ہوگا اور اسے 2036 کے لگ بھگ چین کی قیادت میں قائم ہونے والے چاند کے تحقیقی اڈے کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چاند پر ایٹمی ری ایکٹر کی ضرورت کیوں
یہ سوال اہم ہے کہ جب چاند پر سورج کی روشنی دستیاب ہے تو وہاں ایٹمی بجلی گھر بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟
اس کا بنیادی تعلق چاند کے قطب جنوبی سے ہے، جہاں ایسے گہرے گڑھے موجود ہیں جن تک لاکھوں سال سے سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکی۔ سائنس دانوں کے مطابق ان علاقوں میں پانی برف کی شکل میں موجود ہے۔
مستقبل میں اس برف کو نکال کر پانی حاصل کیا جاسکتا ہے، جسے انسانی استعمال، آکسیجن کی تیاری اور راکٹوں کے ایندھن کے لیے استعمال کرنے کے امکانات موجود ہیں۔
اس مقصد کے لیے مسلسل اور قابل اعتماد توانائی درکار ہوگی۔ ایٹمی ری ایکٹر نہ صرف چاند پر قائم رہائشی اور تحقیقی مراکز کو بجلی فراہم کریں گے بلکہ برف اور دیگر معدنی وسائل کی تلاش اور پراسیسنگ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چاند پر شمسی توانائی کا استعمال محدود ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں کسی مقام پر تقریباً دو ہفتے دن اور اس کے بعد دو ہفتے رات رہتی ہے۔ اس دوران سولر پینلز سے مسلسل بجلی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
بینگر یونیورسٹی کے نیوکلیئر فیوچرز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سائمن مڈلبرگ کے مطابق چاند پر مستقل اڈے چلانے کے لیے شمسی توانائی کافی نہیں ہوگی، جبکہ بیٹریوں اور دیگر متبادل ذرائع کو زمین سے لے جانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایٹمی توانائی اس ضرورت کا ایک اہم حل بن سکتی ہے۔
چاند پر ایٹمی ری ایکٹر پہنچانا کتنا مشکل
چاند پر ایٹمی بجلی گھر قائم کرنا صرف ری ایکٹر تیار کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے لیے کئی پیچیدہ مراحل سے گزرنا ہوگا۔
سب سے پہلے زمین پر ری ایکٹر تیار کیا جائے گا، جس کے بعد اسے خصوصی روبوٹک خلائی جہاز کے ذریعے چاند تک پہنچایا جائے گا۔ وہاں اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ اتار کر مطلوبہ مقام پر نصب کرنا ہوگا۔
امریکا اور روس دونوں کے منصوبوں میں یہ بات شامل ہے کہ ری ایکٹر کو زمین سے روانگی کے وقت بند رکھا جائے گا اور چاند کی سطح پر محفوظ طریقے سے نصب ہونے کے بعد ہی اسے فعال کیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد سفر کے دوران کسی ممکنہ حادثے کی صورت میں تابکاری کے خطرے کو کم سے کم رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مشکل صرف ایٹمی ٹیکنالوجی کی تیاری نہیں بلکہ راکٹ کی دستیابی، لانچ کی منظوری، چاند پر محفوظ لینڈنگ اور وہاں ری ایکٹر کو طویل عرصے تک چلانے کے انتظامات کرنا بھی ہے۔
خلائی مقابلے کی اصل وجہ
چاند پر ایٹمی ری ایکٹر نصب کرنے کی دوڑ کو محض سائنسی ترقی کا منصوبہ قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے بڑی طاقتوں کے درمیان خلائی برتری حاصل کرنے کی خواہش بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں جاری کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں امریکا کی خلائی برتری کو مضبوط بنانے اور 2030 تک چاند پر ایٹمی ری ایکٹر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔
دوسری جانب چین اور روس بھی چاند پر مستقل موجودگی اور تحقیق کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی توجہ بالخصوص چاند کے قطب جنوبی پر ہے، جہاں پانی کی برف کے ذخائر مستقبل کی خلائی سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی حکام بھی واضح کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ چاند پر مسابقت جاری ہے۔ اس لیے چاند پر پہلے مستقل اڈے اور توانائی کا نظام قائم کرنے کی کوشش مستقبل کی خلائی سیاست میں اہم حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔
اس مقابلے کا ایک اور پہلو چاند پر موجود معدنی وسائل ہیں۔ مستقبل میں ایلومینیم، ٹائٹینیم اور سلیکان جیسے معدنیات کے حصول کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں، جو خلائی صنعت اور سیٹلائٹس کی تیاری میں کام آسکتے ہیں۔
چاند پر ایٹمی حادثہ ہوا تو ؟
یہ اس پورے منصوبے کا سب سے حساس پہلو ہے۔ ایٹمی ری ایکٹر سے توانائی حاصل کرنا ایک اہم سائنسی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ تابکاری اور ممکنہ آلودگی کے خطرات بھی وابستہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ری ایکٹر کو فعال کرنے سے پہلے ہی راکٹ یا خلائی جہاز کو حادثہ پیش آجائے تو خطرے کی نوعیت مختلف ہوگی، کیونکہ غیر فعال ایندھن اور کام کرتے ہوئے ری ایکٹر کی تابکاری کی سطح ایک جیسی نہیں ہوتی۔
اصل تشویش اس وقت پیدا ہوگی جب ری ایکٹر فعال ہونے کے بعد کسی حادثے کا شکار ہو۔ ایسی صورتحال میں تابکار مواد کے اخراج اور چاند کی سطح کے کسی مخصوص حصے کے آلودہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس حوالے سے ماضی کا ایک اہم واقعہ بھی موجود ہے۔ 1978 میں سوویت یونین کا جوہری توانائی سے چلنے والا سیٹلائٹ کوسموس 954 زمین پر واپس آتے ہوئے کینیڈا کے شمالی علاقے میں تباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار 300 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تابکار مواد پھیل گیا تھا، جسے صاف کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کرنا پڑی۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خلا میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات ضروری ہیں۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ چاند پر کسی ایسے حادثے کی صورت میں آلودگی کا پھیلاؤ ممکنہ طور پر ایک محدود علاقے تک رہ سکتا ہے، کیونکہ وہاں زمین جیسا ماحول اور ہواؤں کے ذریعے آلودگی پھیلنے کا نظام موجود نہیں۔
خلا میں ایٹمی ری ایکٹر استعمال ہوچکے ؟
چاند پر ایٹمی بجلی گھر بنانے کا منصوبہ اپنی نوعیت میں نیا ضرور ہے، لیکن خلا میں جوہری توانائی کا استعمال بالکل نیا تصور نہیں۔
سابق سوویت یونین نے 1960 کی دہائی کے اختتام سے 1980 کی دہائی تک زمین کے مدار میں 30 سے زائد جوہری ری ایکٹر بھیجے تھے۔ ان کا مقصد سرد جنگ کے دوران جاسوس سیٹلائٹس کو توانائی فراہم کرنا تھا۔
امریکا نے بھی 1965 میں اسنیپ 10اے کے نام سے ایک تجرباتی جوہری توانائی کا نظام خلا میں بھیجا تھا۔ یہ نظام ابتدائی طور پر کام کرتا رہا، تاہم سیٹلائٹ کے ایک غیر جوہری برقی حصے میں خرابی کے باعث 43 دن بعد بند ہوگیا۔
اس تجربے کے بعد امریکا کے متعدد خلائی جوہری توانائی کے منصوبے بجٹ اور ترجیحات میں تبدیلی کے باعث آگے نہ بڑھ سکے۔
کوئی ملک چاند پر قبضہ کرسکتا ہے؟
چاند پر ایٹمی ری ایکٹر نصب کرنے کے منصوبوں نے ایک اہم قانونی سوال بھی پیدا کردیا ہے کہ کیا کوئی ملک وہاں موجود وسائل یا کسی مخصوص علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرسکتا ہے؟
سال 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے تحت کوئی بھی ملک چاند یا اس کے کسی حصے پر قومی خودمختاری یا ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ تاہم اس معاہدے کے تحت ممالک کو اپنے بھیجے گئے خلائی آلات اور تنصیبات کی ملکیت حاصل رہتی ہے۔
اس معاہدے میں خلا میں جوہری توانائی کے استعمال پر مکمل پابندی بھی عائد نہیں کی گئی، لیکن اس کے پرامن استعمال اور دوسرے ممالک کو نقصان سے بچانے کے اصول اہم ہیں۔
ماہرین کے مطابق چاند پر پانی کی برف کے ذخائر کے قریب پہلے پہنچنے والا ملک عملی طور پر ایک محفوظ علاقہ قائم کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اگرچہ ایسا کرنے سے اسے قانونی طور پر زمین کی ملکیت حاصل نہیں ہوگی، لیکن وہاں ایٹمی تنصیب کی موجودگی دوسرے ممالک کی رسائی کو محدود کرسکتی ہے۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر چاند پر نصب ایٹمی ری ایکٹر کسی حادثے کا شکار ہوجائے اور دوسرے ملک کی تنصیبات یا خلائی عملے کو نقصان پہنچے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
موجودہ بین الاقوامی قوانین میں اس نوعیت کی طویل مدتی اور ممکنہ طور پر خطرناک تنصیبات کے لیے کئی قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں، جن پر مزید بین الاقوامی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
مستقبل کی زندگی یا نئی خلائی کشمکش؟
امریکا، روس اور چین کے ایٹمی ری ایکٹر منصوبے مستقبل میں چاند پر انسانی موجودگی کو ممکن بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ ہیں۔ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہاں مستقل تحقیقی مراکز، معدنی وسائل کی تلاش اور خلائی سفر کے لیے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ کون سا ملک پہلے چاند پر ایٹمی بجلی گھر بناتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو کس حد تک محفوظ، ذمہ دارانہ اور عالمی قوانین کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔
چاند پر انسانی مستقبل کی بنیاد رکھنے کی یہ کوشش سائنسی ترقی کا نیا باب کھول سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ تابکاری، وسائل کی تقسیم اور خلائی خودمختاری کے تنازعات بھی دنیا کے سامنے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔


