امریکی مڈٹرم انتخابات: ٹرمپ کی ڈیموکریٹس کو مبارکباد، ایران جنگ وجہ قرار

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی شاندار کامیابی پر حریف جماعت کو مبارکباد دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بھی ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے فرانس 24 کے مطابق ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کرکے کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس سے صدر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آخری دو سال سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو میں ڈیموکریٹس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مبارک ہو، انہوں نے اچھا کام کیا ہے۔ ڈیموکریٹس 11 سال سے اس کامیابی کے منتظر تھے اور بالآخر انہوں نے یہ ہدف حاصل کرلیا۔

انتخابی شکست کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران جنگ بھی نتائج پر اثرانداز ہوئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں شکست کی ایک وجہ ایران بھی تھا، تاہم امریکی عوام ایران کے حوالے سے ان کے اقدامات کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی تھی، جس کا اظہار ووٹرز نے انتخابی نتائج میں کیا۔

شکست کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

ڈیموکریٹس کو مبارکباد دینے کے باوجود ٹرمپ نے اپنی جماعت کی شکست کی ذاتی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر وہ خود بھی انتخابی بیلٹ پر موجود ہوتے تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔

ٹرمپ نے اپنے ہی ساتھی ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی کارکردگی اور معیار پر بھی سوالات اٹھائے۔

قانون سازی پر ٹرمپ کا ویٹو کا اعلان

امریکی صدر نے واضح کیا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے باوجود وہ اپنی صدارتی اختیارات استعمال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس چاہے 50 بہترین بل بھی منظور کرکے بھیج دیں، اگر انہیں پسند نہ آئے تو وہ ان پر ویٹو کی مہر لگا دیں گے۔

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹک قیادت کے درمیان آئندہ دو برسوں میں سیاسی کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ٹرمپ کا مخالفین کے لیے سخت پیغام

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امیدواروں کا معیار اہمیت رکھتا ہے اور صدر ٹرمپ نے کئی امیدواروں کی انتخابی مہم میں ان امیدواروں سے زیادہ محنت کی۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ شدت پسند بائیں بازو کے خلاف اپنی جدوجہد مزید مضبوط کریں گے۔

کیا ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی ہوگی؟

انتخابی نتائج کے بعد سب سے اہم سوال ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا مستقبل ہے۔

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس امکان پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔

تاہم رپورٹ میں ایسی کسی نئی فوجی کارروائی کے حتمی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی سیاست میں ان انتخابی نتائج کو ٹرمپ کی صدارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کو اب کانگریس میں حکومتی فیصلوں، قانون سازی اور ممکنہ تحقیقات کے حوالے سے زیادہ سیاسی طاقت حاصل ہوگی۔