واشنگٹن: امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بدترین کارکردگی کے بعد طنزیہ انداز میں اپنے انتخابی اخراجات کا خود ہی مذاق اڑایا ہے۔
مسک نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم پر ریکارڈ رقم خرچ کی تھی، تاہم ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی کے بعد ان کے حمایت یافتہ کئی امیدوار شکست کھا گئے۔
خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق ایلون مسک نے بدھ کی علی الصبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ لگتا ہے اس بار میری انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والی خلائی لیزرز کام نہیں آئیں۔
یہ تبصرہ انہوں نے طنزیہ انداز میں کیا، جس میں اپنے سیاسی اثرورسوخ اور انتخابی مہم پر بھاری اخراجات کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔
ریپبلکنز پر کتنی رقم خرچ کی؟
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں اور ان کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپس پر تقریباً 445 سے 483 ملین ڈالر تک خرچ کیے۔
اس طرح وہ ان انتخابات کے سب سے بڑے انفرادی سیاسی عطیہ دہندگان میں شامل رہے۔
ان کی مالی معاونت کا بڑا مقصد ریپبلکنز کو کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے میں مدد دینا تھا، لیکن انتخابی نتائج اس کے برعکس سامنے آئے اور ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرلی۔
ٹیکساس میں بھی مسک کی سرمایہ کاری ناکام
ایلون مسک کی سیاسی سرمایہ کاری کو سب سے بڑا دھچکا ٹیکساس میں لگا، جہاں انہوں نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت میں بھاری رقم خرچ کی۔
تاہم ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے سینیٹ کی نشست جیت لی، جبکہ ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا نے گورنر شپ کا انتخاب بھی جیت لیا۔
ٹالاریکو نے اپنی کامیابی کے خطاب میں مسک، صدر ٹرمپ اور واشنگٹن کے بااثر سیاسی حلقوں کو اپنے مقابلے کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے ڈیوڈ اور گولائتھ کی لڑائی سے تشبیہ دی۔
مسک کے لیے سیاسی نقصان کیوں اہم ہے؟
ایلون مسک نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے لیے بھاری مالی وسائل استعمال کیے تھے، جس کے بعد انہیں ٹرمپ انتظامیہ میں غیر معمولی سیاسی اثرورسوخ حاصل ہوا۔
لیکن 2026 کے انتخابی نتائج نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا صرف بھاری مالی سرمایہ کاری کے ذریعے امریکی ووٹرز کی سیاسی ترجیحات تبدیل کی جاسکتی ہیں؟
ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد مسک کی کمپنیوں، خصوصاً اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کے کاروبار سے متعلق معاملات پر کانگریس میں زیادہ سخت نگرانی اور ممکنہ تحقیقات کا امکان بھی زیر بحث ہے۔


