آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر 4 تیل بردار جہاز تباہ: ایران کا دعویٰ

تہران / دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک انتہائی تشویش ناک خبر سامنے آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر چار تیل بردار جہاز تباہ ہوگئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ چار تیل بردار جہاز ایران کی جانب سے ممنوع قرار دیے گئے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کررہے تھے، اسی دوران وہ بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔

ایرانی بیان کے مطابق چاروں جہاز تاحال آگ کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ دو مزید بحری جہازوں کو بھی روک کر تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم جہازوں کے نام، ان کے پرچم، عملے کی تعداد اور جانی نقصان کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ساختہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث اس راستے پر جہاز رانی شدید متاثر ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی مقرر کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔

دوسری جانب اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں اور ایرانی ردعمل کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے بھی جاری ہیں، تاہم سفارتی پیش رفت کے آثار محدود ہیں۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔