سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کے 8 اصول وضع کر دیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے آٹھ اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو، یا ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی جانب سے استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد کو متاثر کرنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش، عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کا خدشہ اور تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت بھی ضمانت منسوخی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے مطابق اگر ملزم ضمانت پر رہائی کے بعد آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کرے تو بھی اس کی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دورانِ تفتیش نئے حقائق اور شواہد سامنے آئیں جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کریں تو یہ بھی ضمانت منسوخ کرنے کی وجہ بن سکتے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کی جانب سے ملزم علی اصغر کھوکھر کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے اندراج میں نو ماہ کی تاخیر اور ملزم کے کردار سے متعلق معاملات مزید تحقیق کا تقاضا کرتے ہیں۔

بجلی چوری سے شہری کی ہلاکت کا معاملہ

مقدمے کے مطابق لاڑکانہ کے رحمت پور تھانے میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ واقعہ 3 مارچ 2024 کو پیش آیا، جب ڈسپوزل فیز سے خصوصی لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔

دورانِ فراہمی بجلی تار ٹوٹنے کے باعث نور حسین نامی شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔

واقعے کے مقدمے میں نامزد ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو مسترد کر دی تھی۔

بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر کے اندراج میں نو ماہ کی تاخیر اور دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

واپڈا کو بھی کارروائی کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، چوری اور نجی سطح پر بجلی کے غیر قانونی کنکشن (سائفننگ) میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لیں۔