کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے خواتین کو ہراساں کیے جانے، لباس اور معاشرتی رویوں سے متعلق ایک ایسا تجربہ بیان کیا جس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اداکارہ نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے معروف مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والے رویوں کو سمجھنے کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا تھا۔ اس تجربے کے نتائج ان کے لیے بھی حیران کن تھے۔
حنا خواجہ بیات نے بتایا کہ انہوں نے دو لڑکیوں کو پہلے عام دیسی لباس پہنا کر بازار سے گزارا۔ اس دوران وہاں موجود کچھ لوگوں نے انہیں دیکھا، لیکن کسی نے کوئی نازیبا بات نہیں کی۔
اداکارہ کے مطابق اس کے بعد انہی لڑکیوں کو دوپٹہ اوڑھا کر بازار بھیجا گیا تو انہیں بعض افراد کی جانب سے چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔
حنا بیات نے بتایا کہ جب وہ لڑکیاں مکمل حجاب میں بازار گئیں تو انہیں مزید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورت حال ان کے لیے انتہائی حیران کن تھی۔
اداکارہ نے اس تجربے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے بعض مرد یہ سمجھتے ہوں کہ مکمل حجاب کرنے والی خاتون اپنا دفاع نہیں کر سکے گی، جبکہ عام لباس میں نظر آنے والی خواتین کو وہ زیادہ پراعتماد سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق معاشرے میں خواتین کے لباس سے متعلق پائے جانے والے تصورات اور مردوں کا رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی آراء
بعض صارفین نے ان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اسے پردے کے بارے میں نامناسب تبصرہ قرار دیا، جبکہ کئی لوگوں نے اداکارہ کی بات کی حمایت کی اور کہا کہ خواتین کو لباس سے قطع نظر ہراسانی سے تحفظ ملنا چاہیے۔
کچھ صارفین نے اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کیے اور اس بات سے اتفاق کیا کہ ہراسانی کا تعلق صرف لباس سے نہیں بلکہ بعض افراد کی سوچ اور رویے سے بھی ہوتا ہے۔
اس گفتگو نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ خواتین کے لباس سے قطع نظر انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داری معاشرے پر کیوں پوری نہیں ہو رہی۔


