بھارتی ریارست اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ایسے قتل مقدمے میں چونکا دینے والا فیصلہ سنایا ہے جو چار دہائیوں سے زائد عرصے تک عدالتی فائلوں میں دفن رہا۔ عدالت نے تقریباً 100 سالہ دھنی رام کو 1982 کے قتل کیس میں 42 سال بعد بری کر دیا، جسے 1984 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ 9 اگست 1982 کو ضلع ہمیر پور میں پیش آنے والے ایک خونریز واقعے سے جڑا ہے، جہاں پرانی دشمنی کے باعث گنوا نامی شخص کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ مرکزی ملزم میکو نے فائرنگ کی، جبکہ ستی دین اور دھنی رام نے اسے اکسانے کا کردار ادا کیا۔ تاہم مرکزی ملزم میکو کبھی گرفتار نہ ہو سکا۔
ہمیر پور کی سیشن عدالت نے جولائی 1984 میں ستی دین اور دھنی رام دونوں کو قتل کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی، مگر دھنی رام کو اسی سال ضمانت مل گئی تھی۔ اس کے بعد معاملہ دہائیوں تک ہائی کورٹ میں زیر التوا رہا، جبکہ شریک ملزمان کے معاملات یا تو لٹکے رہے یا ختم ہو گئے۔
جسٹس چندر دھاری سنگھ اور جسٹس سنجیو کمار پر مشتمل ہائیکورٹ کے بنچ نے کہا کہ اپیل کے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر، ملزم کی نہایت ضعیف عمر، اور برسوں پر محیط ذہنی و سماجی اذیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اپیل کے بوجھ تلے دبی زندگی، مسلسل غیر یقینی کیفیت اور سماجی اثرات بھی سزا میں نرمی کے اہم عوامل ہیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ دھنی رام ضمانت پر تھا، اس لیے اب اس کی ضمانت منسوخ سمجھی جائے گی اور وہ مکمل طور پر آزاد تصور ہوگا۔










