آسٹریلوی پولیس نے دو چینی شہریوں کو غیر ملکی مداخلت کے الزامات میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی پولیس نے 25 سالہ مرد اور 31 سالہ خاتون پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے چینی حکومت کی ہدایات پر دارالحکومت کینبرا میں بودھ گروپ گوان یین سیٹا کی جاسوسی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد گزشتہ اگست گرفتار ہونے والے ایک چینی شہری کے ساتھ کام کر رہے تھے، جو اسی گروپ کی نگرانی کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔
آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس کے مطابق یہ کیس کینبرا کے جاسوسی ادارے (اے ایس آئی او) کو ملی ایک اطلاع پر شروع کیا گیا۔کہ مختلف غیر ملکی حکومتیں ہماری اقلیتی کمیونٹیز پر نظر رکھ رہی ہیں، انہیں ہراساں کر رہی ہیں جو ناقابل قبول ہے۔
گوان یین سیٹا گروپ کے مطابق وہ بودھ تعلیمات کی ترویج، زندگی کی آزادی اور دوسروں کی مدد کے لیے عزم رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ بیجنگ اس گروپ کو باغی قرار دیتا ہے۔
چین کے دفتر خارجہ نے آسٹریلیا سے کیس کے معاملے میں احتیاط برتنے کی اپیل کی اور دعویٰ کیا کہ انہیں کیس کی تفصیلات کا علم نہیں۔
اس واقعے سے آسٹریلیا اور بیجنگ کے تعلقات میں پہلے سے موجود نازک صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، حالانکہ 2024 میں تجارتی تنازعات میں کچھ بہتری بھی آئی تھی۔


