اہم ترین

ایران پر اسرائیلی بمباری چوتھے ہفتے میں داخل، تہران کا بھی بھرپور جواب

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں اسرائیل نے تہران پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ میں ایران کو بری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملے ایرانی اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہونے والے مشترکہ امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ یواے ای، کویت اور سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں کئی حملے ناکام بھی بنائے گئےہیں۔

جنگ اب لبنان تک پھیل چکی ہے، جہاں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے ٹھکانوں پراسرائیل نے شدید بمباری کی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران 1000 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ قطر کے راس لفان گیس کمپلیکس پر حملے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، جس کے باعث عالمی گیس اور تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

مزید برآں آبنائےہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اسرائیل اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادھر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا ہے، تاہم زمینی فوج بھیجنے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں۔

فرانسیسی صدر ایمنوئل میکرون نے جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے لیے عالمی فریم ورک بنانے کی تجویز دی ہے۔

جنگ کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ مہنگائی اور خوراک کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروت میں مقیم شہریوں کا کہنا ہے کہ عید کی خوشیاں ماند پڑ چکی ہیں اور لوگ بنیادی ضروریات کے لیے بھی پریشان ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح وقت نہیں، جبکہ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ تنازع توقع سے جلد ختم ہو سکتا ہے۔

پاکستان