امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے عالمی فضائی صنعت کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں دنیا کی 20 بڑی پبلک لسٹڈ ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 53 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایئرلائنز کی مارکیٹ ویلیو میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔
جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں فضائی حدود غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ایئرلائنز نے اپنی کمرشل پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایئرلائن حکام نے ایندھن کی ممکنہ قلت پر بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ جنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
خاص طور پر جیٹ فیول، جو ایئرلائنز کے اخراجات کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہوتا ہے، اس کی قیمت جنگ شروع ہونے کے بعد دگنی ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی فضائی صنعت کو نہ صرف مالی نقصان بلکہ آپریشنل بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات مسافروں پر مہنگے ٹکٹوں اور محدود پروازوں کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔


