اہم ترین

ایران میں جنگ کے دوران کرپٹو کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران ایران میں کرپٹو کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈیجیٹل اثاثے ایک جانب بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے اور دوسری جانب عام شہریوں کے لیے مالی تحفظ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ڈیٹا تجزیاتی ادارے چین اینالائسز کے مطابق 28 فروری سے 2 مارچ کے درمیان ایرانی کرپٹو ایکسچینجز سے 10 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی بیرون ملک منتقل کی گئی۔ 5 مارچ تک ان میں سے تقریباً ایک تہائی رقوم غیر ملکی ایکسچینجز میں منتقل ہو چکی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان رقوم کی منتقلی کی ایک وجہ شہریوں کی جانب سے اپنی بچت کو محفوظ بنانا ہو سکتی ہے، تاہم بڑی مالیت کے باعث ریاستی عناصر کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بعض ڈیجیٹل والٹس کے روابط پاسداران انقلاب سے بھی جوڑے گئے ہیں۔

کرپٹو تجزیاتی اداروں کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود بھی کرپٹو رقوم کی منتقلی جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ اداروں کو سسٹم تک خصوصی رسائی حاصل ہے۔

بین الاقوامی پابندیوں کے باعث روایتی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک کٹے ہوئے ایران کے لیے کرپٹو کرنسیاں ایک متبادل چینل بن چکی ہیں، جن کے ذریعے مبینہ طور پر تیل کی فروخت اور اتحادی گروہوں کی مالی معاونت بھی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ماہرین نے اس رجحان کو شیڈو بینکنگ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب عام شہری تیزی سے بٹ کوائن کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جسے ذاتی ڈیجیٹل والٹس میں محفوظ کر کے حکومتی کنٹرول سے کسی حد تک باہر رکھا جا سکتا ہے۔ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث کرپٹو کرنسیاں عوام کے لیے ایک اہم مالی سہارا بنتی جا رہی ہیں۔

پاکستان