ایران اور امریکا کے بعد اب اسرائیل اور لبنان کےدرمیان بھی 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے، جس کے بعد ہزاروں بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے۔
رواں برس فروری فروری میں اسرائیل اور امریکا نے ایران پر جنگ مسلط کی تھی۔ ساتھ ہی اسرائیل نے لبنان میں ایران کی حامی ملیشیا حزب اللہ کو نشانہ بنایا تھا۔ جواب میں حزب اللہ نے بھی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی اہم ترین شرط لبنان میں کارروائیاں روکنا تھی۔ جس پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اتفاق کیا تھا۔
رواں ہفتے امریکا میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ لیکن اس دوران بھی صیہونی فوج بھی بے گناہ لبنانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتی رہی۔
دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا اطلاق ہوگیا ہے۔جنگ بندی سے چند گھنٹے پہلے بھی اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 380 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ لبنان میں حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اس جنگ بندی کو تاریخی امن معاہدے کا موقع قرار دیا، تاہم انہوں نے شرط رکھی کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔
دوسری جانب لبنان کی قیادت نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، مگر اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
لبنانی فوج نے خبردار کیا کہ کچھ علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں، اور شہریوں کو فوری واپسی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
جنگ بندی کےبعد لبنان میں لوگ بڑی تعداد میں گاڑیوں میں جنوب کی طرف روانہ ہوئے۔ تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باوجود واپسی جاری رہی ۔ اس دوران کئی خاندان گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ زمین اور گھروں سے محبت انہیں خطرات کے باوجود واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان بھی مذاکرات جاری ہیں۔ممکنہ طور پر جلد ایک بڑا معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔


