امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل میں ایک بڑی قیادت تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹم کُک 15 سالہ کامیاب دور کے بعد رواں سال سی ای او کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
ٹم کُک ستمبر میں اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر کمپنی کے ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین کا کردار سنبھالیں گے۔ ان کی جگہ جان ٹرنس کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو اس وقت ہارڈویئر انجینئرنگ کے سینئر نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اپنے بیان میں ٹم کُک نے کہا کہ ایپل کی قیادت کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا۔ انہوں نے 1998 میں کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور بتدریج ترقی کرتے ہوئے 2011 میں اسٹیو جابز کے بعد سی ای او بنے۔
اپنے دور میں ٹم کُک نے کمپنی کی قدر کو تقریباً 4 ٹریلین ڈالر تک پہنچایا اور مصنوعات کی رینج کو وسعت دی۔ انہوں نے ایپل کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر چین کو مینوفیکچرنگ کا مرکزی مرکز بنانے میں۔
ٹم کُک کی قیادت میں ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مالی لحاظ سے بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، لیکن جدت کے میدان میں وہ اپنے پیشرو اسٹیو جابز جیسا اثر نہ چھوڑ سکے۔
تقریباً 15 سال قبل اسٹیو جابز کے انتقال کے بعد کمپنی کی باگ ڈور سنبھالنے والے ٹم کُکنے ایپل کو 350 ارب ڈالر کی کمپنی سے بڑھا کر تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کی مالیت تک پہنچا دیا۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس دور میں جادوئی مصنوعات کی کمی محسوس کی گئی۔
ایپل کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اب بھی آئی فون ہے، جس کی طلب کو پورا کرنے میں کک کی سپلائی چین مہارت نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں ایپل واچ اور ایئرپوڈز جیسے مصنوعات متعارف ہوئیں، جو مارکیٹ میں مقبول ضرور ہوئیں مگر انہیں انقلابی ایجاد قرار نہیں دیا گیا۔
کک نے کمپنی کو ڈیجیٹل سروسز کی جانب بھی موڑا، جہاں ایپ اسٹور کے ذریعے ایپس، میوزک، اور کلاؤڈ سروسز سے بھاری آمدنی حاصل کی جا رہی ہے۔ 2024 تک یہ شعبہ کمپنی کی کل آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی بن چکا تھا، تاہم اسی ماڈل پر اجارہ داری کے الزامات بھی سامنے آئے۔
چین کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی کک کی حکمت عملی کا حصہ رہے، جہاں ایپل کی زیادہ تر مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔ لیکن ڈانلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے بعد کمپنی نے پیداوار کو بھارت، ویتنام اور دیگر ممالک منتقل کرنا شروع کر دیا۔
تاہم ٹم کُک کا دور کچھ ناکامیوں سے بھی خالی نہیں رہا۔ اربوں ڈالر کا ٹائٹن الیکٹرک کار منصوبہ 2024 میں بند کر دیا گیا، جبکہ ایپل میپس کی ابتدائی ناکامی پر کک کو معافی مانگنی پڑی۔ مزید برآں ایپل وژن پرو مہنگا ہونے کے باعث صارفین میں زیادہ مقبول نہ ہو سکا۔
ٹیک ماہرین کے مطابق ایپل اب مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیچھے رہتا دکھائی دے رہا ہے، اور سری کی بہتری کے لیے کمپنی نے گوگل سے مدد لینا شروع کر دی ہے۔
مجموعی طور پر ٹم کُک کا دور مالی کامیابیوں سے بھرپور رہا، مگر وہ جدت اور حیرت پیدا کرنے والی روایت کو برقرار نہ رکھ سکے جس کے لیے اسٹیو جابز جانے جاتے تھے۔


