یورپی ملک رومانیہ میں ایک اے آئی جنریٹڈ گلوکارہ لولیتا سیرکل تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، مگر اس کی کامیابی نے موسیقی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
گزشتہ سال کے آخر میں متعارف ہونے والی لولیتا سیرکل نے سوشل میڈیا پر لاکھوں ویوز حاصل کیے، ٹی وی انٹرویوز دیے اور ایک بڑی بکنگ ایجنسی سے معاہدہ بھی کیا۔ تاہم اس تخیلاتی گلوکارہ کی مقبولیت نے حقیقی گلوکاروں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
لولیتا سیرکل درحقیقت ایک گمنام ڈیزائنر ٹام کی تخلیق ہے، جس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کسی خاص ثقافت کی نمائندگی کرنا نہیں تھا بلکہ یہ کردار بلقان خطے کی مشترکہ شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کردار حد سے زیادہ جنسی نوعیت کی پیشکش ہے، جو معاشرے میں موجود چھپی ہوئی نسل پرستی کو ظاہر کرتی ہے۔
مقامی گلوکارہ بیانکا میہائی نے لولیتا سیرکل کی اچانک کامیابی کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جگہ بنانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں، جبکہ اے آئی گلوکارہ چند ہفتوں میں ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔
مصنوعی ذہانت دیگر شعبوں کی طرح اب موسیقی کے میدان میں بھی تیزی سے جگہ بنا رہی ہے، عالمی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اے آئی سے بننے والے مواد میں حقیقی فنکاروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔


