ایران امریکا کشیدگی! جنگ بندی ختم ہونے کے قریب اور مذاکرات غیر یقینی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے امریکا کے ساتھ نئی امن بات چیت کے لیے ابھی تک کوئی وفد روانہ نہیں کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے خطے میں دوبارہ جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ مذاکرات، جو اسلام آباد میں ہوئے تھے، بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔ ان مذاکرات کو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کی ملاقات قرار دیا گیا تھا، تاہم اختلافات برقرار رہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کسی بھی قسم کا وفد روانہ نہیں کیا گیا، جبکہ تہران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دباؤ کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہوئی تو دوبارہ شدید فوجی کارروائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اور بلاکاد کا اعلان کیا۔ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بحران اب صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ سیاسی برداشت اور سفارتی دباؤ کا امتحان بن چکا ہے۔

دوسری جانب جنگ کے اثرات عام شہریوں پر بھی گہرے ہو رہے ہیں، جہاں تہران میں رہنے والے شہری صورتحال کو “مایوس کن” اور “تباہ کن” قرار دے رہے ہیں۔

اگر جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے تو خطے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔