ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ کسی بھی براہِ راست ملاقات یا مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی کوئی بات چیت ممکن نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی حکام کے ساتھ نہ کوئی براہِ راست ملاقات طے ہے اور نہ ہی ایسی کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مشاہدات اسلام آباد کے ذریعے امریکہ تک پہنچائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ان کا مؤقف مسلسل ایک جیسا ہے اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی پیش رفت یا مذاکرات کو کئی شرائط سے مشروط کیا گیا ہے۔
اہم شرط کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز پر مبینہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکی آمیز زبان یا رویے کو قبول نہیں کرے گا، خاص طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے تناظر میں۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری ناکہ بندی کو جنگی اقدام اور بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید تناؤ کو جنم دے سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی، امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا امکان انتہائی محدود رہے گا۔











