آنے والے دور میں کسی بھی ملک کی صنعتی طاقت کا اندازہ اس کے کارخانوں سے نہیں بلکہ اس کے پاس موجود ‘ڈیٹا’ کے ذخیرے سے لگایا جائے گا۔ ماہرین اب ڈیٹا کو جدید دور کا ایسا خام مال قرار دے رہے ہیں جو بجلی یا ایندھن جتنا ہی ضروری ہو چکا ہے۔ چین نے اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے ایک منظم قانونی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی برتری برقرار رکھ سکے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق جرمنی کے شہر ہینوور میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی صنعتی نمائش میں اگرچہ لوگوں کی توجہ کا مرکز وہ روبوٹس تھے جو انسانوں سے ہاتھ ملا رہے تھے یا ویلڈنگ کر رہے تھے، لیکن اصل سپر پاور وہ ڈیٹا تھا جو ان مشینوں کو چلا رہا تھا۔
چین کی نظریں بھی اب صرف مصنوعات بنانے پر نہیں، بلکہ اس ڈیجیٹل ایندھن پر ہیں جو مستقبل کی عالمی معیشت کو چلائے گا۔ جو ملک اس ڈیٹا پر کنٹرول حاصل کر لے گا، وہی آنے والی دہائیوں کا فاتح کہلائے گا۔ اسی لئے چین کے لیے یہ ڈیٹا محض معلومات نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار ہے۔
اکتوبر 2023 میں چین نے ‘نیشنل ڈیٹا ایڈمنسٹریشن’ کے نام سے ایک خصوصی ادارہ قائم کیا جس کا مقصد ملک کے تمام ڈیجیٹل وسائل کی نگرانی کرنا ہے۔
بیجنگ اب نہ صرف اپنے شہریوں کی سماجی درجہ بندی (سوشل کریڈٹ سسٹم) کے لیے ڈیٹا استعمال کر رہا ہے، بلکہ اب اسے معاشی ضمانت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یعنی مستقبل میں کمپنیاں اپنے پاس موجود ڈیٹا کی بنیاد پر مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کر سکیں گی۔
چینی حکومت نے ایسے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کے تحت حساس معلومات کا ملک سے باہر جانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
اگرچہ اس سے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، لیکن چین کا اصل ہدف یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے میدان میں مغربی ممالک اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر اپنا انحصار مکمل طور پر ختم کر دے۔











