اہم ترین

اسلام آباد میں پاک-ایران وفود کے طویل مذاکرات : پاکستانی حکام پرامید

اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان دارالحکومت میں تقریباً پورا دن جاری رہنے والی طویل بیٹھک ختم ہو گئی۔ ان مذاکرات میں ایران کی جانب سے متعین کردہ حدود اور ان پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا جہاں تہران لچک دکھانے یا سمجھوتہ کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے ایرانی موقف کو بہت تفصیل سے سنا ہے اور کچھ اہم معاملات پر پیش رفت ہوتی نظر آ رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا دورہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا؛ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ اگر پاکستان، ایرانی موقف پر امریکیوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو عباس عراقچی دوبارہ مذاکرات کے لیے واپس آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب، تمام نظریں اب واشنگٹن پر لگی ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ کے بھیجے گئے نمائندے واقعی پاکستان کا رخ کریں گے یا نہیں۔

سفارتی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ماضی میں بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایلچی بھیجنے کے بیانات سامنے آئے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

پاکستان اس وقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جہاں وہ تہران سے ملنے والے اشاروں کو واشنگٹن تک پہنچا کر تعطل توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی وفد اسلام آباد پہنچتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کی جانب ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان