اہم ترین

سیمنٹ مہنگا کیوں؟ مسابقتی کمیشن نے ٹیکسز اور پالیسی خامیوں کو وجہ قراردے دیا

مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف طلب و رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ بھاری ٹیکسز، پالیسی خامیوں اور مسابقتی رکاوٹوں کا نتیجہ ہیں۔

سی سی پی کی رپورٹ کے مطابق سیمنٹ کی قیمت میں ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا حصہ 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مجموعی قیمت کا تقریباً نصف حصہ مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ پچاس کلوگرام سیمنٹ بیگ کی قیمت 822 روپے سے بڑھ کر 1091 روپے تک جا پہنچی ہے، جس نے تعمیراتی شعبے پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ملک میں سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت دوگنی ہو چکی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف 53 فیصد تک محدود ہے، جبکہ شمالی اور جنوبی دونوں علاقوں میں کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوبی علاقوں میں چند بڑی کمپنیوں کے مارکیٹ پر غلبے کو بھی مسابقت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئلے کی درآمد پر اجارہ داری لاگت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ صوبوں کے درمیان مختلف ٹرانسپورٹ قوانین اور معدنی رائلٹی کے غیر یکساں نظام بھی لاگت اور مسابقت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

سی سی پی نے خبردار کیا ہے کہ سمگل شدہ اور جعلی سیمنٹ نہ صرف مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عوام کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ سیمنٹ سیکٹر میں فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر تعمیراتی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا اور ہاؤسنگ و صنعتی شعبے بری طرح متاثر ہوں گے۔

سی سی پی نے اپنی سفارشات میں ٹیکس پالیسی میں بہتری، توانائی قیمتوں میں توازن، نقل و حمل کے نظام کی جدید کاری، اور صوبوں میں ایکسل لوڈ قوانین کو ہم آہنگ بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ مسابقتی توازن بحال کرنے، نئی سرمایہ کاری اور توسیع کی راہ ہموار کرنے، اور معدنی وسائل کے شعبے کی ترقی کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان