امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کے حالیہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر سازشی نظریات کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جس میں بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں کہ حملہ مبینہ طور پر خود ترتیب دیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہفتے کے روز واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ یہ دو سال کے دوران ان پر تیسری مرتبہ قاتلانہ حملے کی کوشش بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر لاکھوں صارفین نے یہ دعویٰ پھیلانا شروع کر دیا کہ اس حملے کو سیاسی فائدے کے لیے اسٹیج کیا گیا۔ ڈس انفارمیشن پر نظر رکھنے والے ادارے نیوز گارڈ کے مطابق صرف دو دن میں ایسے مواد کو 80 ملین سے زائد ویوز ملے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیانیہ ایک سازشی گروہ بلیو آنن سے جڑا ہوا ہے، جو دائیں بازو کے کیو اے نون کے طرز پر تشکیل پایا ہے۔ اس سے قبل بھی 2024 میں پنسلوانیا اور فلوریڈا میں ہونے والی مبینہ حملہ آور کوششوں کو اسی انداز میں متنازع بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “نفرت پر مبنی بائیں بازو کا بیانیہ” قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق 31 سالہ مشتبہ ملزم کول ایلن کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے جرم ثابت ہونے پر عمر قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر معلومات کی دوڑ میں اکثر غلط اور گمراہ کن خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں، جس سے عوام میں الجھن اور تقسیم بڑھتی ہے۔ لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے مطابق روس اور ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اس واقعے سے متعلق مختلف سازشی دعوؤں کو ہوا دی۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی معاشرہ سیاسی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے، جہاں لوگ مستند ذرائع کے بجائے اپنے پسندیدہ آن لائن انفلوئنسرز پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سنسنی خیز مواد سے مالی فائدہ حاصل کرنے کا عنصر بھی ان افواہوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔


