مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ ایران جنگ کے سائے میں، پاکستان نے خطے کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ جہاں ایک طرف بحری راستے بارود کی بو سے تعفن زدہ ہیں، وہیں پاکستان نے اپنی زمین کو عالمی تجارت کے لیے پیش کر کے خود کو ایک ناگزیر تجارتی مرکز کے طور پر منوا لیا ہے۔
فروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکا ایران جنگ نے عالمی تجارت کی شہ رگ آبنائے ہرمز کو مفلوج کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے باعث کراچی کی بندرگاہ پر ایران جانے والے 3ہزار سے زائد کنٹینرز ہفتوں سے پھنسے ہوئے تھے۔ بحری جہازوں کا انشورنس پریمیم 0.12 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس نے سمندری راستے سے تجارت کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
وزارتِ تجارت نے ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026 کے ذریعے ایران کے ساتھ 6 زمینی راستے کھولنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اقتصادی انقلاب ہے۔ کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو براہِ راست ایرانی سرحد (تفتان اور گبد) سے جوڑ دیا گیا ہے۔ گوادر سے گبد کا راستہ ایران تک رسائی کو محض 3 گھنٹوں تک محدود کر دے گا، جس سے اخراجات میں 55 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی ہے۔ کابل کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور طورخم و چمن سرحدوں پر بار بار ہونے والی جھڑپوں نے پاکستان کو متبادل ڈھونڈنے پر مجبور کیا۔ اب پاکستان افغانستان پر انحصار کیے بغیر مغرب کی طرف تجارت کر سکے گا۔ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرے گا۔اور چین کے تعاون سے بننے والے تجارتی راستوں (سی پیک) کو مزید وسعت دے گا۔
پاکستان نے اپنی پالیسی واضح رکھی ہے۔ جہاں ایران کے لیے راستے کھولے گئے ہیں، وہیں مئی 2025 کی پاک بھارت فضائی جنگ کے بعد سے بھارتی سامان کے ٹرانزٹ پر لگی پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ تجارتی سہولیات صرف دوستانہ تعلقات سے مشروط ہیں۔
اگرچہ یہ راہداری پاکستان کو ریجنل ٹریڈ حب بنا سکتی ہے، لیکن ماہرین اسے خطرات سے خالی قرار نہیں دیتے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور پاک ایران سرحد پر موجود عسکریت پسندی اس منصوبے کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ پاکستان ایک بہترین پوزیشن میں تو آ گیا ہے، لیکن ابھی محفوظ پوزیشن میں آنا باقی ہے۔
پاکستان کا یہ قدم نہ صرف ایران کو معاشی سانس لینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گا۔ اگر یہ راہداری کامیاب رہتی ہے، تو یہ خطے میں تجارت کا رخ ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گی۔


