بھارتی گلوکارہ سوگتھا کرشنن کا میوزک ڈائریکٹر پرزیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام

تامل فلم انڈسٹری کی معروف گلوکارہ سواگتھا کرشنن نے ایک حالیہ انٹرویو میں کولائی ووڈ کے ایک مقبول میوزک ڈائریکٹر پر جنسی زیادتی، مالی فراڈ اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات عائد کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ گلوکارہ نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ سات سالوں سے اس صدمے کی وجہ سے چنئی چھوڑ کر رشی کیش میں مقیم تھیں۔

سواگتھا کرشنن نے سواسنگری ٹاکس کو دیے گئے 56 منٹ طویل انٹرویو میں بتایا کہ مذکورہ میوزک ڈائریکٹر نے اپنے ساؤنڈ پروف سٹوڈیو میں ان کے ساتھ زبردستی زیادتی کی اور اس پورے عمل کو سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ کر لیا۔

گلوکارہ کے مطابق، اس نے مجھے دھمکی دی کہ وہ یہ فوٹیج اپنے دوستوں کو دکھا دے گا۔ اس کے اسٹوڈیو میں کئی خفیہ کیمرے لگے ہیں جہاں وہ لڑکیوں اور یہاں تک کہ بچوں کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے انہیں دیکھتا ہے۔ وہ مدراس کا ایپسٹین ہے۔

گلوکارہ نے بتایا کہ جب وہ جذباتی طور پر کمزور تھیں، اس شخص نے ہمدردی کا ناٹک کر کے انہیں اپنے جال میں پھنسایا۔ اس نے نہ صرف ان کی محنت کی کمائی کا 90 فیصد حصہ دبا لیا بلکہ قرض کے بہانے ان سے بھاری رقوم بھی بٹوریں۔ اس گھناؤنے کھیل میں موسیقار کی اہلیہ اور خاندان بھی برابر کے شریک ہیں۔

سواگتھا نے بتایا کہ اس وقت وہ اتنی خوفزدہ تھیں کہ ایف آئی آر درج کروانے کی ہمت نہیں تھی، جس کی وجہ سے وہ گھٹن محسوس کرتے ہوئے چنئی چھوڑ کر رشی کیش منتقل ہو گئیں، جہاں اب وہ اپنا فیبرک یونٹ ‘تارابائی’ چلا رہی ہیں اور جنسی زیادتی کا شکار دیگر خواتین کو ہنر سکھاتی ہیں۔

گلوکارہ نے انٹرویو میں جی وی پرکاش، جبران، ایمان اور انیرودھ جیسے موسیقاروں کو پیشہ ور قرار دیتے ہوئے سراہا، جبکہ ملزم کو سستا کچرا قرار دیا۔ وہ جلد ہی قانونی طور پر اس شخص کا نام منظرِ عام پر لائیں گی تاکہ دوسری لڑکیاں اس شکاری کے جال میں نہ پھنسیں۔