میٹا کا مصنوعی ذہانت پر بڑا داؤ، بھاری سرمایہ کاری کے باوجود شیئرز میں کمی

سان فرانسسکو: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی مستقبل کی ٹیکنالوجی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے بڑے فیصلے کر رہی ہے۔

کمپنی نے رواں سال کے لیے اپنے کیپیٹل اخراجات کا تخمینہ 125 سے 145 ارب ڈالر تک بڑھا دیا ہے، تاہم اس سرمایہ کاری سے فوری منافع کے حوالے سے واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ اس اعلان کے بعد کمپنی کے شیئرز میں 6 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، حالانکہ مالی نتائج توقعات سے بہتر رہے۔

مارک زکربرگ نے کہا کہ کمپنی کا مقصد ایسی “ایجنٹک اے آئی” تیار کرنا ہے جو صارفین کی جانب سے خودکار طریقے سے کام انجام دے سکے۔ ان کے مطابق وہ ایسی AI ٹیکنالوجی بنانا چاہتے ہیں جس پر عام صارف مکمل اعتماد کر سکے۔

انہوں نے میٹا کے نئے “میوز اسپارک” اے آئی ماڈل کا بھی ذکر کیا، جو کمپنی کی “سپر انٹیلیجنس لیب” میں تیار کیا جا رہا ہے، اور اسے اسمارٹ گلاسز اور اشتہاری نظام سمیت مختلف مصنوعات میں استعمال کیا جائے گا۔

میٹا، جو فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک ہے، دیگر ٹیک کمپنیوں جیسے ایمیزون، مائیکروسافٹ اور گوگل کے برعکس اپنی اے آئی سروسز براہِ راست فروخت نہیں کر رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

کمپنی نے اس سہ ماہی میں 56.3 ارب ڈالر آمدن اور 26.8 ارب ڈالر منافع رپورٹ کیا، تاہم اخراجات بڑھ کر 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس کی بڑی وجہ اے آئی انفراسٹرکچر اور ماہرین کی بھرتی ہے۔

دوسری جانب، کمپنی کو امریکہ اور یورپ میں قانونی اور ریگولیٹری دباؤ کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات سے متعلق مقدمات کے باعث۔ حال ہی میں ایک امریکی عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لت پیدا کرنے والے ڈیزائن کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کمپنیوں کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق میٹا کی یہ حکمت عملی طویل المدتی فوائد دے سکتی ہے، تاہم قلیل مدت میں سرمایہ کاروں کے خدشات برقرار رہنے کا امکان ہے۔