متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد لگائی گئی تمام پروازوں پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور ملک کی فضائی حدود میں فلائٹ آپریشنز مکمل طور پر معمول پر آ گئے ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی اور آپریشنل صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متعلقہ اداروں سے مشاورت کے ذریعے کیا گیا، جبکہ صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری رکھی جائے گی۔
یہ پیش رفت دبئی اور ابوظہبی جیسے اہم ایوی ایشن مراکز کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جو فروری کے آخر سے مختلف پابندیوں کے تحت کام کر رہے تھے۔ خاص طور پر دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بین الاقوامی مسافروں کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں نے مشرق وسطیٰ میں فضائی سفر کو شدید متاثر کیا تھا۔ اس دوران متحدہ عرب امارات سمیت کم از کم آٹھ ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں خطے سے آنے جانے والی 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ امارات، فلائی دبئی اور اتحاد ایئرویز جیسی بڑی ایئر لائنز کو بھی عارضی طور پر آپریشنز معطل کرنا پڑے۔
گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد صورتحال میں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں اب فضائی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم ایوی ایشن انڈسٹری کو مکمل طور پر سنبھلنے میں ابھی وقت لگے گا۔
ادھر قطر ایئرویز نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 10 مئی سے عراق کے تین شہروں کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرے گا، جو خطے میں فضائی بحالی کی ایک اور علامت ہے۔











