ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں سفارتی محاذ پر کچھ نرمی کے اشاروں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بدستور بہت زیادہ ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے مؤقف میں معمولی لچک دکھاتے ہوئے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اس تجویز کو دیکھے بغیر ہی مسترد کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تعطل کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پال مسگریو کے مطابق ایرانی تجویز میں جزوی نرمی ضرور دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر اس شرط سے پیچھے ہٹ گیا ہے جس میں اس نے آبنائے ہرمز میں اپنی بحری سرگرمیوں پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم اس کے باوجود اہم نکات پر اختلافات جوں کے توں برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی یورینیم افزودگی کے اپنے خودمختار حق اور اپنے جوہری پروگرام کو برقرار رکھنے پر قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل پر ایک کنٹرول میکنزم کی بات بھی کی جا رہی ہے، جس نے امریکی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
پال مسگریو کے مطابق سب سے بڑے تنازعات یورینیم افزودگی اور ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کی منتقلی کے معاملے پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ “بہت، بہت زیادہ” ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سخت مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ ایران کو اپنی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ترک کرنا ہوگی۔











