فاسٹ بولر اولی رابنسن کو دو سال بعد انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم میں واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ انگلینڈ کرکٹ کے سربراہ راب کی نے انہیں دنیا کے بہترین بولرز میں شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی واپسی کو یادگار بنائیں۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے 32 سالہ فاسٹ بولر کو نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ رابنسن نے اب تک صرف 20 ٹیسٹ میچز میں 76 وکٹیں 22.92 کی شاندار اوسط سے حاصل کر رکھی ہیں، جسے انگلینڈ مینجمنٹ غیر معمولی ریکارڈ قرار دے رہی ہے۔
اولی رابنسن فروری 2024 کے بعد پہلی مرتبہ قومی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ انہیں فٹنس مسائل اور طویل اسپیلز میں رفتار برقرار نہ رکھنے کے خدشات کے باعث ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔ تاہم انگلینڈ کرکٹ حکام کا کہنا ہے کہ سسیکس کے کپتان کے طور پر ان کی حالیہ کارکردگی نے سب کو متاثر کیا ہے۔
راب کی نے کہا کہ جب رابنسن مکمل فٹ ہوں اور 82 سے 83 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کریں تو وہ کسی بھی معیار پر “ورلڈ کلاس” بولر ہیں۔ ان کے مطابق رابنسن کے اعداد و شمار انہیں دنیا کے کامیاب ترین بولرز کی فہرست میں نمایاں مقام دیتے ہیں۔
انگلینڈ کو اس وقت تجربہ کار فاسٹ بولرز کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور کرس ووکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم نئے بال کے مستقل اٹیک کی تلاش میں ہے۔ دوسری جانب جوفرا آرچر انڈین پریمیئر لیگ میں مصروفیات کے باعث پہلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے، جس کے بعد رابنسن انگلینڈ کے مرکزی فاسٹ بولر کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔
راب کی نے مزید کہا کہ جدید کرکٹ میں کھلاڑی دنیا بھر کی لیگز اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیموں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق جوفرا آرچر کی واپسی سے انگلینڈ کا بولنگ اٹیک مزید مضبوط ہوگا۔
لارڈز میں 4 جون سے شروع ہونے والا یہ ٹیسٹ ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 کی شکست کے بعد انگلینڈ کا پہلا ٹیسٹ ہوگا۔ کپتان بین اسٹوکس اور کوچ برینڈن میک کولم کی قیادت میں انگلینڈ نے عندیہ دیا ہے کہ اب ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ متوازن حکمت عملی اپنائے گی۔
اس سیریز میں نوجوان بلے باز ایمیلیو گے لارڈز میں ٹیسٹ ڈیبیو کریں گے جبکہ انگلینڈ کے مایہ ناز بیٹر جو روٹ سے بھی بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔











