امریکا میں جے پی مورگن چیس کے ایک سابق بینکر کی جانب سے خاتون افسر کے خلاف دائر جنسی ہراسانی کے مقدمے نے سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز، تصاویر اور میمز تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
نیویارک کی عدالت میں دائر مقدمے میں سابق بینکر چیریو رانا نے خاتون ایگزیکٹو لورنا حاجدینی پر جنسی ہراسانی، دباؤ اور نسلی امتیاز کے الزامات عائد کیے ہیں۔
تاہم لورنا حاجدینی کے وکلا نے ان الزامات کو من گھڑت قرار دیا جبکہ جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں دعوے بے بنیاد پائے گئے۔
مقدمے کے بعد سوشل میڈیا پر اے آئی سے بنائی گئی متعدد جعلی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔ ایک ویڈیو میں دونوں کو ریسٹورنٹ میں ایک ساتھ دکھایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ دونوں کے درمیان رضامندی پر مبنی تعلق تھا، حالانکہ اس کی کوئی تصدیق موجود نہیں۔
ایک اور اے آئی ویڈیو میں مقدمے کے الزامات کو فلمی انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ کچھ مواد میں خاتون افسر کو تضحیک اور مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان ریئل اسٹوری فیکس کہلاتا ہے، جہاں کسی حقیقی خبر کے گرد جعلی اے آئی مواد بنا کر لوگوں کی توجہ حاصل کی جاتی ہے۔
کینیڈا اور امریکا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی حقیقت اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد اکثر زیادہ ویوز، کلکس اور مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ مقدمہ اب صرف ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ اے آئی کے غلط استعمال اور آن لائن گمراہ کن مواد کے خطرات کی بڑی مثال بن گیا ہے۔


