امریکی انتظامیہ نے ایران کے مالیاتی اور توانائی نیٹ ورکس کو نشانہ بناتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ایران میں قائم ایک کرنسی ایکسچینج ہاؤس امین ایکسچینج اور اس سے منسلک مبینہ فرنٹ کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو مختلف ممالک میں مالی لین دین میں سہولت فراہم کرتی تھیں۔
واشنگٹن کے مطابق یہ نیٹ ورک متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور ہانگ کانگ سمیت متعدد دائرہ اختیار میں سرگرم تھا اور ایرانی بینکوں کی جانب سے مالی لین دین کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے مزید کہا ہے کہ ایران سے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل میں ملوث 19 بحری جہازوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، جو مبینہ طور پر بین الاقوامی خریداروں تک ایرانی مصنوعات پہنچانے میں کردار ادا کر رہے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کے مالی وسائل اور توانائی برآمدات کو محدود کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔


