اہم ترین

جنگ بندی کے لیے نئی امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ایران

ایران اور امریکا کے درمیان چھ ہفتے قبل قائم ہونے والی کمزور جنگ بندی کے باوجود تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کا تازہ مؤقف موصول ہو چکا ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کی طرف سے فوری اور مثبت جواب نہ ملا تو امریکہ بہت جلد دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے اور اب معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ کے دورۂ تہران کے بعد اب ملکی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تہران آمد متوقع ہے تاکہ تعطل کو توڑا جا سکے۔

اس جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ خود امریکا کے اندر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صدر ٹرمپ کو شدید سیاسی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کا گراف نیچے گرا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے رواں ہفتے امریکہ کو اپنی نئی تجاویز اور شرائط بھیجی ہیں جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ ان مطالبات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو اس بار جنگ کا دائرہ کار صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے باہر بھی پھیل جائے گا۔

پاکستان