عالمی عدالت انصاف کا تاریخی فیصلہ: دنیا بھر کے ملازمین کو ہڑتال کا حق مل گیا

عالمی عدالتِ انصاف نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ مزدوروں کا ہڑتال کرنے کا حق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے 1948 کے اہم معاہدے (کنونشن 87) کے تحت محفوظ ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر لیبر تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی سی جے کے صدر یوجی ایواساوا نے مشاورتی رائے دیتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت کے نزدیک مزدوروں اور ان کی تنظیموں کا حقِ ہڑتال اس کنونشن کے تحت تحفظ یافتہ ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایک مشاورتی رائے ہے جو کہ لازمی طور پر قابلِ پابند نہیں ہے، اور اس فیصلے کا مقصد ہڑتالوں کے دائرہ کار، شرائط یا دیگر زمینی قوانین کا تعین کرنا نہیں ہے۔

یہ قانونی جنگ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن میں سرگرم مزدور تنظیموں اور آجروں (ملازمت دینے والے مالکان) کے گروپس کے درمیان طویل عرصے سے جاری تھی۔ مزدور تنظیموں کا مؤقف تھا کہ کنونشن 87، جو کہ تنظیم سازی کی آزادی دیتا ہے، اس میں ہڑتال کا حق بھی شامل ہے۔

دوسری جانب آجروں کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ 1948 کے معاہدے میں ہڑتال کا کوئی ذکر نہیں ہے اور ہر ملک کے اپنے الگ قوانین ہوتے ہیں، اس لیے اسے سب پر زبردستی لاگو نہیں کیا جانا چاہیے۔

مزدور تنظیموں کے نمائندے ہیرالڈ کوہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگر ہڑتال کے حق کو تسلیم نہ کیا گیا تو دنیا بھر کی کمپنیاں اور حکومتیں مزدوروں کے حقوق کو نقصان پہنچانا شروع کر دیں گی، جس سے کروڑوں محنت کش متاثر ہوں گے۔ دوسری طرف آجروں کے نمائندوں نے ان خدشات کو بلاجواز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ہڑتال کا حق مقامی قوانین میں پہلے ہی محفوظ ہوتا ہے۔