اہم ترین

عورت کارڈ کھیلا جارہا ہے: ثاقب چدھڑ کا مومنہ اقبال کے ہراسانی الزامات پر ردعمل

لاہور: اداکارہ اور مسلم لیگ ن کے رکنِ صوبائی اسمبلی کے درمیان مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔

چند روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک ن لیگی ایم پی اے کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

گزشتہ روز اداکارہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوئے، جہاں اداکارہ کی جانب سے مبینہ شواہد بھی جمع کروائے گئے۔

اداکارہ کی درخواست میں ثاقب چدھڑ کے اداکارہ کی درخواست میں ثاقب چدھڑ کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جبکہ این سی سی آئی اے نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں

اداکارہ کے مطابق وہ اس معاملے پر مختلف اداروں میں شکایات بھی درج کرا چکی ہیں، تاہم ان کی درخواستوں پر کارروائی کے بجائے معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے تمام الزامات مسترد کردیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ آٹھ ماہ سے ان کا مومنہ اقبال سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے اداکارہ کو کوئی کال کی ہے۔

لیگی ایم پی اے نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے اور اداکارہ ویمن کارڈ استعمال کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مومنہ اقبال کے ہونے والے شوہر نے ان کے موبائل فون میں ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد غصے میں آ کر انھیں دھمکی آمیز کال کی، جبکہ بعد میں اداکارہ اور ان کی والدہ نے فون کر کے معذرت بھی کی۔

ثاقب چدھڑ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اس معاملے پر تھانے میں درخواست جمع کروا رکھی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں ایک مخصوص نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے کبھی اداکارہ کو کال کی ہو تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔

پاکستان