رومن کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے اٹلی کے جنوبی علاقے کیمپانیا کے شہر ایسیرا کا دورہ کیا ہے، جو لینڈ آف فائرز” یا “موت کے مثلث” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ کئی دہائیوں سے مافیا کی جانب سے زہریلے صنعتی فضلے کو غیر قانونی طور پر جلانے اور دفن کرنے کے باعث شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس علاقے کی زمین، زیرِ زمین پانی اور فضاء بھاری دھاتوں، ڈائی آکسین اور ایسبیسٹوس جیسے خطرناک مواد سے آلودہ ہو چکے ہیں، جبکہ مقامی آبادی میں کینسر کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
پوپ لیو چہاردہم اپنے دورے کے دوران ماحولیاتی ناانصافی اور انسانی صحت کو لاحق خطرات پر آواز بلند کریں گے۔ وہ ایسیرا کے کیتھیڈرل میں مذہبی رہنماؤں اور ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ خاندانوں سے خطاب بھی کریں گے۔
یہ دورہ سابق پوپ پوپ فرانسس کے مشہور ماحولیاتی منشور لاوداتو سی کی 11ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جس میں ماحول کے بے دریغ استحصال پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
یورپی انسانی حقوق کی عدالت گزشتہ برس یہ قرار دے چکی ہے کہ اٹلی اپنے شہریوں کو ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا، اور حکومت کو صورتحال بہتر بنانے کے لیے دو سال کی مہلت دی گئی تھی۔











