ایران نے اعلان کیا ہے کہ مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں ملک بھر میں تین روزہ سرکاری جنازے اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ ان کی تدفین سے متعلق حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای، جنہوں نے تقریباً 37 برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی، فروری کے آخر میں تہران میں اپنے رہائشی مقام پر ہونے والے حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی سرکاری تدفین ابتدائی طور پر 4 مارچ کو طے کی گئی تھی، تاہم جنگی حالات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔
تہران کے نائب میئر محمد امین توکل زادہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تدفین سے قبل ملک بھر میں تین روزہ عوامی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام ماہ محرم کے آغاز کے ساتھ منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، جبکہ مرحوم سپریم لیڈر کو مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
ایرانی انتظامیہ کے مطابق صرف تہران میں ہونے والی مرکزی تعزیتی تقریب کم از کم 24 گھنٹے جاری رہے گی اور اس میں تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعات ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکومت نے ان تقریبات کو قومی اتحاد اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اہم موقع قرار دیا ہے۔











