ٹیک کمپبی میٹا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اے آئی پر مبنی انسٹاگرام اکاؤنٹ ریکوری سسٹم میں موجود ایک سنگین خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز نے دنیا بھر میں 20 ہزار سے زائد انسٹاگرام اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔
کمپنی کے مطابق یہ خامی ہائی ٹچ سپورٹ (ایچ ٹی ایس) نامی ٹول میں پائی گئی، جسے لاک ہونے والے انسٹاگرام اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ آور پاس ورڈ ری سیٹ لنکس حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے، خاص طور پر ایسے اکاؤنٹس میں جہاں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2ایف اے) فعال نہیں تھی۔
رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے اے آئی سپورٹ سسٹم کو دھوکا دے کر یہ باور کرایا کہ ان کا فراہم کردہ نیا ای میل ایڈریس اصل اکاؤنٹ سے منسلک ہے۔ اس کے بعد پاس ورڈ ری سیٹ درخواستوں کے ذریعے اکاؤنٹس کا کنٹرول حاصل کیا گیا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اسے 31 مئی 2026 کو اس مسئلے کا علم ہوا، جبکہ پہلا کامیاب حملہ غالباً 17 اپریل 2026 کے آس پاس کیا گیا تھا۔ کمپنی نے متاثرہ صارفین کے بارے میں متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اکاؤنٹس میں باراک اوباما سے منسلک وائٹ ہاؤس اکاؤنٹ، سیفورا اور دیگر نمایاں پروفائلز بھی شامل ہیں۔
میٹا نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ اکاؤنٹس سے ای میل ایڈریس، فون نمبر، تاریخِ پیدائش، پروفائل معلومات، تصاویر، ویڈیوز، اسٹوریز، ڈائریکٹ پیغامات اور دیگر حساس معلومات تک رسائی حاصل کی گئی ہو سکتی ہے، تاہم کمپنی ابھی حتمی طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکی۔
سکیورٹی خامی سامنے آنے کے بعد میٹا نے ایچ ٹی ایس ریکوری سسٹم کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے، تمام پاس ورڈ ری سیٹ لنکس منسوخ کر دیے ہیں اور متاثرہ صارفین کے لیے لازمی پاس ورڈ تبدیلی سمیت اضافی سکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور اپنے اکاؤنٹس کی سکیورٹی سیٹنگز کا جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں سے محفوظ رہا جا سکے۔











