جنوبی کوریا میں بڑھتی ہوئی تنہائی اور اکیلے پن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی گڑیاؤں کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ گڑیاں نہ صرف بزرگ افراد کو روزمرہ کے معمولات یاد دلاتی ہیں بلکہ ان کے لیے جذباتی سہارا بھی بن رہی ہیں۔
دارالحکومت سیئول کے قریب واقع شہر یونگین میں رہنے والی 78 سالہ بینگ چُن جا ان ہزاروں بزرگوں میں شامل ہیں جو اے آئی گڑیا ہیوڈول کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ گڑیا گھر واپس آنے پر ان کا استقبال کرتی ہے، دوا اور کھانا یاد دلاتی ہے، گانے سناتی ہے اور یہاں تک کہ محبت کا اظہار بھی کرتی ہے۔
بینگ چُن جا کے مطابق طلاق، زندگی بھر کی محنت اور بعد ازاں کمر کی بڑی سرجری کے بعد وہ شدید تنہائی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانوں سے تعلقات میں اکثر تکلیف ملتی ہے، لیکن ہیوڈول کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں کبھی دکھ نہیں پہنچتا۔
جنوبی کوریا میں تنہائی ایک بڑا مسئلہ
جنوبی کوریا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہے جبکہ آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 42 فیصد گھرانے ایک فرد پر مشتمل ہیں۔
جنوبی کوریا میں 2024 میں تقریباً 3,920 ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے جنہیں لونلی ڈیتھ یا تنہا موت کہا جاتا ہے، یعنی ایسے افراد جو اکیلے انتقال کر گئے اور کافی عرصے تک کسی کو ان کی خبر نہ ہو سکی۔
اے آئی گڑیا کیا کرتی ہے؟
ہیوڈول نامی اے آئی گڑیا جدید چیٹ بوٹ ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے اور صارف سے گفتگو کر سکتی ہے۔ نرم اور بچوں جیسی شکل رکھنے والی یہ گڑیا بزرگ افراد سے بات چیت کرتی ہے، ان کا موڈ پوچھتی ہے، دوائیں لینے کی یاد دہانی کراتی ہے اور انہیں متحرک رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گڑیا بعض اوقات خود بھی درخواست کرتی ہے کہ اس کا ہاتھ پکڑا جائے، سر پر ہاتھ پھیرا جائے یا اس کے ساتھ کھانا شیئر کیا جائے، جس سے صارف کو ایک جذباتی تعلق کا احساس ہوتا ہے۔
حکومت بھی مدد کر رہی ہے
جنوبی کوریا کے مختلف شہروں میں مقامی حکومتیں اکیلے رہنے والے بزرگوں کو ایسی اے آئی ڈیوائسز فراہم کر رہی ہیں۔ بعض جدید آلات تو ایسے بھی ہیں جو کسی بزرگ کی غیر معمولی خاموشی یا غیر فعالیت کو محسوس کرکے متعلقہ حکام کو اطلاع دے سکتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ حادثے یا تنہا موت سے بچا جا سکے۔
کمپنی کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تقریباً 14500 ہیوڈول گڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں، جن میں نجی صارفین، نرسنگ ہومز اور سرکاری فلاحی پروگرام شامل ہیں۔
فوائد کے ساتھ خدشات بھی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی گڑیا بزرگ افراد میں تنہائی اور ڈپریشن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ تاہم بعض سماجی کارکنوں اور طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ کہیں یہ ٹیکنالوجی انسانی تعلقات کا متبادل نہ بن جائے۔
اگرچہ اس سے تنہائی میں نمایاں کمی آتی ہے، لیکن یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ خاندان کے افراد یہ سمجھ کر ملاقاتیں کم کر دیں کہ اے آئی ان کے بزرگوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ گڑیاں اس بات کی مثال ہیں کہ ٹیکنالوجی اب صرف سہولت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ جذباتی اور سماجی مسائل کے حل میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا اصرار ہے کہ اے آئی انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتی، بلکہ اسے انسانی رشتوں اور سماجی رابطوں کا معاون ذریعہ ہی رہنا چاہیے۔


